اترپردیش میں 200 سالہ قدیم مسجد 20 منٹ میں شہید کردی گئی

نئی دہلی: ریاست اترپردیش وارنسی میں گزشتہ شب انتظامیہ نے 200 سال قدیم ازغیب شہید مسجد کو شہید کر دیااور ساتھ ہی وہاں موجود مزار اور قبرستان کے کچھ حصہ کو بھی منہدم کر دیا گیا۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ مسجد کو شہید کرنے کی کارروائی محض 22 منٹ میں 5 بلڈوزرس کے ذریعہ انجام دی گئی۔
یہ مسجد تقریباً 42 فیٹ اونچی تھی جس کو مسمار کیے جانے کے بعد ملبہ راتوں رات ٹرکوں میں بھر کر وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ یعنی چہارشنبہ کی صبح جب لوگ اس جگہ سے گزرے تو مسجد اور مزار کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق منگل کی دیر شب تقریباً 12 بجے انتظامیہ کے اعلیٰ افسران 1000 سے زائد جوانوں کے ساتھ ازغیب مسجد کے پاس پہنچے اور علاقہ کا معائنہ کیا۔
ڈی سی پی کاشی گورو بنسوال اور اے ڈی سی پی ویبھو بانگر نے مسجد کے چاروں طرف بیریکیڈنگ کروائی اور لوگوں کی آمد و رفت پر روک لگا دی گئی۔ حتیٰ کہ میڈیا کو بھی اس جگہ پر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ رات کی تاریکی میں خاموشی کے ساتھ یہ کام ہوا، اور جب تک مسجد منہدم ہونے کی خبر لوگوں تک پہنچی، ملبہ بھی وہاں سے ہٹایا جا چکا تھا۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مسجد ریلوے کی زمین پر بنی تھی۔
یہاں کاشی ماڈل ریلوے اسٹیشن بنایا جانا ہے اسی وجہ سے یہ انہدامی کارروائی انجام دی گئی۔ حالانکہ انتظامیہ نے مسجد منہدم کرنے کے لیے رات کی تاریکی کا انتخاب کرنے کی کوئی آفیشیل وجہ نہیں بتائی۔ پولیس اہلکاروں نے یہ ضرور کہا کہ ٹریفک سے بچنے کے لیے رات میں کارروائی کی گئی۔ راج گھاٹ واقع کاشی ریلوے اسٹیشن کے احاطہ میں موجود اس مسجد کو منہدم کرنے سے پہلے اے سی پی شیوہری مینا نے افسروں کے ساتھ پہنچ کر جائزہ لیا تھا۔
بعد ازاں سخت سیکورٹی میں مزار اور اس کے قریب بنی مسجد کو شہید کر دیا گیا۔موصولہ اطلاع کے مطابق بھدؤ چنگی واقع قلعہ کوہنا علاقہ میں ازغیب شہید کی مسجد اور قبرستان کئی سالوں سے تنازعہ کا شکار رہا۔ مسلم فریق کا دعویٰ ہے کہ مسجد 200 سال قدیم تھی۔ مسجد کے متولی شمیم استاد تھے جن کا 2 ماہ قبل انتقال ہو چکا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ ریلوے کی پرانی زمین ہےجس پر کچھ لوگوں نے ناجائز قبضہ کر پہلے مزار بنائی اور بعد میں مسجد و قبرستان کی تعمیر کی گئی۔
2024 میں کاشی ماڈل ریلوے اسٹیشن کا منصوبہ سامنے آیا جس کے بعد زمین کی پیمائش کرائی گئی اور مسجد کی تعمیر ناجائز قبضہ والی زمین پر ہونے کا پتہ چلا۔ انتظامیہ نے یہ بھی بتایا کہ ریلوے نے زمین خالی کرنے کے لیے کہا جس کے بعد معاملہ عدالت میں پہنچ گیا۔ حال ہی میں متولی کیس ہار گئے جس کے بعد ریلوے نے زمین خالی کرنے کا نوٹس جاری کیا۔
حالانکہ زمین خالی نہیں کی گئی اور پھر یہ کارروائی کرنی پڑی۔



