نیشنل

بہار کے پٹنہ میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ

نئی دہلی: ریاست بہار کے شہر پٹنہ میں منگل کے روز مشہور خان سر کوچنگ انسٹی ٹیوٹکے باہر مبینہ طور پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں ایک سیکیورٹی گارڈ زخمی ہو گیا۔ فائرنگ کے اگلے دن کوچنگ سینٹر کے باہر طلبہ کی جانب سے باہر احتجاج کیا گیا

 

جبکہ علاقے میں بھاری سیکیورٹی تعینات کر دی گئی۔ یہ ادارہ معروف استاد اور یوٹیوبر خان سر چلاتے ہیں۔واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے خان سر نے قریبی کوچنگ ادارے پر اپنے سینٹر کو ’’دھماکے سے اڑانے‘‘ کی دھمکی دینے کا الزام لگایا۔تاہم بعد میں انہوں نے کہا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ابھی انہیں واقعے کی مکمل تفصیلات معلوم نہیں ہیں۔

 

پولیس کے مطابق یہ واقعہ پٹنہ کے علاقے مسلّح پور ہاٹ کے قریب پیش آیا۔ فائرنگ میں زخمی ہونے والا گارڈ زیرِ علاج ہے۔ ایس پی کارتیکیہ کے شرما نے خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا "گارڈ اور مقامی لوگوں کے بیانات ریکارڈ کیے جا رہے ہیں جس کے بعد مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔”ایک ویڈیو کلپ، جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے اس میں خان سر فائرنگ کے واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے

 

قریبی کوچنگ ادارے سے منسلک افراد پر الزام عائد کرتے نظر آتے ہیں۔خان سر نے کہا "ہمارے سیکیورٹی گارڈ نے بھی حملہ آوروں کی شناخت کر لی ہے۔ یہ قریبی کوچنگ سینٹر کے لوگ ہیں۔ ہمیں تحفظ کی ضرورت ہے یہ انتظامیہ کے دیکھنے کا معاملہ ہے۔ سب کو واضح طور پر معلوم ہے کہ اس واقعے کے پیچھے وہی کوچنگ ادارہ ہے۔”انہوں نے مزید کہا "یہ سب پر واضح ہے

 

کہ قریبی کوچنگ ادارہ اس کے پیچھے ہے۔ انہوں نے ایسے بیانات بھی دیے ہیں جن میں کہا گیا کہ وہ خان سر کے کوچنگ سینٹر کو دھماکے سے اڑا دیں گے۔”ان کے اس بیان کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔خان سر کا کہنا تھا کہ بعض لوگوں کو اس بات پر اعتراض ہے کہ ان کا ادارہ اتنی کم فیس لے کر بھی اچھے نتائج حاصل کر رہا ہے۔انہوں نے کہا "ہم انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ سیکیورٹی کے معاملات کو سنجیدگی سے دیکھے

 

کیونکہ غریبوں کو بھی تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے۔ جب ہزاروں کی تعداد میں اچھے نتائج سامنے آتے ہیں تو بعض سماج دشمن عناصر خود کو خطرے میں محسوس کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہمیں دبا سکتے ہیں۔”اس دوران کوچنگ سینٹر کے باہر پتھراؤ اور توڑ پھوڑ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی ہے۔

 

ویڈیو میں کچھ افراد کو پتھر پھینکتے اور پٹنہ میں خان سر کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے بینرز اتارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔خان سر نے الزام لگایا کہ ملزمان نے ان کے دفتر میں بھی توڑ پھوڑ کی، اور اس واقعے سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج جانچ کے لیے حکام کے حوالے کر دی گئی ہے۔

 

خان سر جن کا اصل نام میڈیا رپورٹس کے مطابق فیصل خان بتایا جاتا ہے (اگرچہ انہوں نے خود اس کی کبھی تصدیق نہیں کی) طلبہ میں ایک نہایت مقبول شخصیت ہیں۔ گزشتہ سال وہ اپنی سادہ اور نجی شادی کی تقریب کے باعث بھی خبروں میں رہے تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button