نیشنل

ندا خان کو پناہ دینے کے الزام میں مجلس کارپوریٹر متین پٹیل کا گھر مسمار، امتیاز جلیل برہم ؛ نیا گھر بنانے کا اعلان

ممبئی –  مہاراشٹرا کے چھترپتی سمبھاجی نگر میں میونسپل کارپوریشن نے چہارشنبہ کو  کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے کارپوریٹر متین پٹیل کی رہائش گاہ، دفتر اور بعض دکانات کے مبینہ غیر قانونی حصوں کو منہدم کردیا۔ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب متین پٹیل کے خلاف ٹی سی ایس کیس کی مبینہ ملزمہ ندا خان کو پناہ دینے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

 

پولیس کے مطابق ندا خان کو 7 مئی کو گرفتار کیا گیا تھا اور الزام ہے کہ متین پٹیل نے انہیں پناہ فراہم کی تھی۔ اس کے بعد میونسپل کارپوریشن نے تارے گاؤں علاقے میں واقع ان کی املاک پر مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے سلسلے میں نوٹس جاری کرتے ہوئے 72 گھنٹوں کے اندر وضاحت طلب کی تھی۔

 

متین پٹیل نے انہدامی کارروائی روکنے کے لئے عدالت سے رجوع کیا تھا، تاہم انہیں کوئی راحت نہیں مل سکی۔ چہارشنبہ کی صبح بلدیہ کے عملے نے پولیس کی بھاری جمعیت کی موجودگی میں کارروائی کرتے ہوئے مکان، دفتر اور دکانات کے بعض حصوں کو منہدم کردیا۔

 

اس سے قبل منگل کی شب سابق رکن پارلیمنٹ امیتاز جلیل نے تارے گاؤں پہنچ کر متین پٹیل کے خاندان سے ملاقات کی تھی اور میونسپل کارپوریشن کی عجلت پر سوال اٹھائے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ عدالت سے ایک ہفتہ کی مہلت طلب کی گئی تھی، مگر بلدیہ کو انہدامی کارروائی کی غیر معمولی جلدی تھی۔

 

امتیاز جلیل نے کہا کہ اگر متین پٹیل سے کوئی غلطی ہوئی بھی ہو تو اس کی سزا پورے خاندان کو نہیں دی جانی چاہیے۔ انہوں نے متاثرہ خاندان کے لئے نیا گھر تعمیر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے فی کس 10 روپے تعاون کی اپیل بھی کی۔

 

دوسری جانب ریاستی وزیر سنجے شرسات نے امتیاز جلیل کے بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی سے قبل قانونی نوٹس جاری کی گئی تھی اور قانون کے مطابق ہی انہدام عمل میں آیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امتیاز جلیل اپنے بیانات کے ذریعے خاندان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔

 

بلدی حکام کے مطابق متین پٹیل کی کارپوریشن رکنیت منسوخ کرنے کا عمل بھی زیر غور ہے اور املاک سے متعلق دستاویزات کی جانچ کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔

 

واضح رہے کہ ندا خان ٹی سی ایس کی ناسک یونٹ میں خواتین ملازمین کے ساتھ مبینہ ہراسانی اور تبدیلیٔ مذہب سے متعلق کیس میں ملزمہ ہیں، جبکہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے پولیس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button