ماموں کی تدفین اور ماں کی سرجری کے باوجود عمر خالد کو عدالت سے پھر مایوسی، 15 دن کی عبوری ضمانت کی درخواست خارج

2020 دہلی فساد سازش کیس میں ملزم اور سابق جے این یو طلبہ لیڈر عمر خالد کو دہلی کی عدالت نے منگل کے روز عارضی ضمانت دینے سے انکار کردیا۔ عمر خالد نے اپنے ماموں کی تدفین میں شرکت اور 2 جون کو ہونے والی اپنی والدہ کی سرجری کے دوران ان کی دیکھ بھال کے لیے 15 دن کی عبوری ضمانت کی درخواست کی تھی، تاہم ایڈیشنل سیشن جج نے ان کی درخواست مسترد کردی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس مقدمے میں عمر خالد اور دیگر بعض ملزمین کو ماضی میں عارضی ضمانت دی جاچکی ہے اور انہوں نے کسی شرط کی خلاف ورزی نہیں کی، لیکن اس بنیاد پر ہر مرتبہ ضمانت دینا ضروری نہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ عبوری ضمانت کی درخواستوں کا جائزہ ہر کیس کے حالات اور حقائق کی بنیاد پر لیا جاتا ہے۔
عدالت نے کہا کہ ماموں کی وفات کے بعد تدفین میں شرکت کے لئے اس مرحلے پر عبوری ضمانت نہیں دی جاسکتی، اور اگر ان کا ماموں سے اتنا ہی قریبی تعلق تھا تو انہیں وفات کے فوری بعد ہی ضمانت کی درخواست دائر کرنی چاہیے تھی۔
والدہ کی سرجری سے متعلق دلیل پر عدالت نے کہا کہ عمر خالد کی بہنیں اور والد ان کی دیکھ بھال کے لیے موجود ہیں، اس لئے اس بنیاد پر بھی عبوری ضمانت نہیں دی جاسکتی۔
واضح رہے کہ شہریت ترمیمی قانون (CAA) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (NRC) کے خلاف فروری 2020 میں دہلی میں ہونے والے احتجاج پرتشدد فسادات میں تبدیل ہوگئے تھے۔ ان فسادات میں 53 افراد ہلاک جبکہ 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
اس معاملے میں شرجیل امام سمیت کئی افراد کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔ پولیس کا الزام ہے کہ ان فسادات کے پیچھے ایک بڑی سازش تھی جس میں ملزمین ملوث تھے، تاہم تمام ملزمین نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔ اس کیس کے بیشتر ملزمین 2020 سے جیل میں بند ہیں۔



