سعودی عرب ؛ متحدہ عرب امارات اور قطر کی مداخلت رنگ لے آئی – ٹرمپ نے ایران پر حملہ روک دیا

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران پر کیے جانے والے مجوزہ فوجی حملے کو عارضی طور پر ملتوی کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک کے سربراہان کی درخواست پر سفارتی مذاکرات کے لیے مزید وقت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے قائدین نے اپیل کی تھی کہ جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے مذاکراتی عمل جاری رکھا جائے، جس کے بعد منگل کو ہونے والا ممکنہ حملہ مؤخر کردیا گیا۔

امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے ایران پر فوجی حملہ فی الحال ملتوی کردیا ہے۔ اگر کوئی اطمینان بخش معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ مکمل اور بڑے پیمانے کے حملے کے لیے تیار ہے۔ میں نے امریکی فوج کو ہر وقت کارروائی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی ہے۔‘‘
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے حالیہ امن تجویز اور پاکستان کی ثالثی کی کوششوں نے بھی حملہ مؤخر کرنے کے فیصلے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
فی الحال دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات، آبنائے ہرمز کی سلامتی اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی جیسے امور پر بات چیت جاری ہے۔ تاہم امریکہ نے واضح کیا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس معاملے میں اس کا مؤقف بدستور سخت رہے گا۔



