شعبۂ مطالعاتِ نسواں‘ مانومیں اعلیٰ تعلیم کے مواقع

(پریس نوٹ) کسی بھی ملک یاسماج کی مکمل ترقی کے لیئے باشعور اور تعلیم یافتہ عورت ومرد کی مساویانہ حصّہ داری نہایت اہم ہے۔ لہذاء سماج میں ”صنفی مساوات (Gender equality)“کے نظریات کو فرو غ دینا اور خاص کرعورت کی تعلیم و ترقی کے متعلق افراد کی ذہن سازی کرنا نہایت ضروری محسوس ہوتا ہے۔
اسی ضرورت و اہمیت کو ملحوظ رکھ کر اعلیٰ تعلیمی نظام میں ایک خاص مضمون ”مطالعاتِ نسواں (Women’s Studies)“ کی شروعات کی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ قومی و بین الاقوامی سطح پر اس مضمون میں تعلیم وتحقیق نہایت اہمیت اختیار کر گئی ہے‘۔یہ مضمون گریجویشن اور ماسٹرز کے علاوہ پی ایچ ڈی کی سطح پر یوں تو ہندوستان کی بیشتر یونی ورسٹیوں میں دستیاب ہے لیکن مولانا آزاد نیشنل اردو یو نی ورسٹی ہندوستان کی وہ واحد یونی ورسٹی ہے
جہاں شعبہ مطالعاتِ نسواں کے تحت اس مضمون میں چار سالہ گریجویشن یا ایم۔ اے یا پی۔ایچ۔ ڈی میں لڑکے اور لڑکیوں دونوں کو تعلیم حاصل کرنے کے مواقع دستیاب ہیں۔ اردو ذریعہ تعلیم کے ساتھ یہ کورس ۴۰۰۲ ء سے فراہم کیا جا رہا ہے۔تا حال اس کورس سے کئی لڑکے اور لڑکیوں نے استفادہ کیا ہے اور مختلف شعبوں میں کامیاب کیریر بنایا ہے۔
شعبہ مطالعاتِ نسواں کی استاد‘ پروفیسر آمنہ تحسین نے بتایا کہ ”مطالعاتِ نسواں“ عصر حاضر کا ایک ابھرتا ہوا ہمہ شعبہ جاتی (Multi disciplinary) مضمون ہے۔ لہذاء اس مضمون میں چار سالہ‘بی۔اے میں داخلہ لیا جا سکتا ہے جبکہ کسی بھی سبجیکٹ کے کامیاب گریجویٹس یا کسی مسلمہ دینی مدرسہ(گریجویشن کی مماثلت رکھنے والے کورسز) کے کامیاب لڑکے اور لڑکیاں‘ دونوں ایم۔ اے (مطالعات نسواں) میں داخلہ لے سکتے ہیں۔
پروفیسر آمنہ تحسین نے بتایا کہ”مطالعاتِ نسواں“ کے کورسس طلبہ میں نہ صرف تحقیقی و تنقیدی صلاحیتوں کو فروغ دیتے ہیں بلکہ مختلف شعبوں میں خواتین کی ترقی وبااختیاری کے لیے روزگار سے وابستہ ہونے کے ضامن بناتے ہیں۔ یہ کور سس سماج میں خواتین کے موقف،مسائل کے علاوہ صنفی مساوات ‘خواتین کے حقوق اور ترقی کے متعلق بھر پور معلومات فراہم کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ سرکاری وغیر سرکاری اقدامات، پالیسیز وپروگرامس اور قوانین سے بھی متعارف کرواتے ہیں۔
یہ موضوعات فی زمانہ نہایت اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ جس کے نتیجے میں طلبہ کو مختلف شعبوں میں روزگار حاصل کر نے کے بہتر مواقع مل رہے ہیں۔ اردو ذریعے تعلیم کے طلبہ کی مکمل شخصیت سازی کے لیے اس کورس کے ساتھ انگلش اور کمپیو ٹر کورس میں مہارت بھی سکھائی جاتی ہے۔ ان مہارتوں کے ساتھ طلبہ کسی بھی شعبہ میں بہ آسانی روزگار سے وابستہ ہو سکتے ہیں۔ اس کورس کے فارغ التحصیل طلبہ کالج ویونی ورسٹیز میں تدریس کے علاوہ خواتین کی ترقی کے متعلق قائم کئے گئے سر کاری ادارے کمیٹیز و کمیشنس اورغیر سرکاری تنظیموں میں پروجکٹ آفیسر، ریسرچ آفیسر، اسسٹنٹ سروے آفیسر یا کونسلر کی حیثیت سے بہترین روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔
مانو میں ہاسٹل اور دیگر سہولتوں کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کے لیئے داخلہ فارم اور پہلے سمسٹر کی ٹیوشن فیس میں رعایت رکھی گئی ہے۔تاکہ زیادہ سے زیادہ لڑکیاں اس کورس سے فائدہ حاصل کرسکیں۔ ایم۔ اے (مطالعاتِ نسواں Women’s Studies) میں داخلہ کے لیئے کو ئی انٹرنس ٹسٹ نہیں ہے۔صرف میریٹ کی بنیاد پر داخلہ لیا جا سکتا ہے۔آن لائن درخواست فارم معہ پراسپکٹس‘یو نی ورسٹی ویب سائٹ(Regular Admissions) www.manuu.edu.in پر دستیاب ہیں۔ اس کورس میں داخلہ کے متعلق مزید تفصیلات کے لیئے کمرہ نمبر ۱۰۱‘ شعبہ مطالعاتِ نسواں‘ اسکول آف آرٹس اینڈ سوشیل سائینسس‘ مانو
حیدرآباد پر ربط کیا جاسکتا ہے یا اکاڈمک کو آرڈینیٹر ڈاکٹر تبریز حسین سے فون نمبر9985740884 پربھی معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ایم۔اے(مطالعاتِ نسواں) میں داخلہ کے لیے آن لائن فارم داخل کر نے کی آخری تاریخ 10-06-2026 ہے۔۔۔۔



