ڈیجیٹل گرفتاری اور سائبر دھوکہ دہی پر سپریم کورٹ برہم – بینکوں کو متاثرین کو مکمل معاوضہ دینے کی ہدایت

نئی دہلی: ڈیجیٹل گرفتاری اور سائبر جرائم کے ذریعے معصوم شہریوں کی رقم لوٹنے والے گروہوں پر سپریم کورٹ نے سخت برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کی نگرانی اور ضروری جانچ میں خامیوں کے باعث اس طرح کے دھوکے ہو رہے ہیں۔ عدالت نے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کو ہدایت دی کہ بینکاری ضوابط کی ناکامی کے باعث کھاتہ داروں کو نقصان پہنچنے کی صورت میں متعلقہ مالیاتی اداروں کو متاثرین کو مکمل معاوضہ دینے کا پابند بنایا جائے۔ عدالت نے 30 نومبر 2026 تک حتمی ضوابط کا اعلامیہ جاری کرنے اور 31 دسمبر 2026 تک انہیں مکمل طور پر نافذ کرنے کی ہدایت دی۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہن پر مشتمل بنچ نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے تشویش ظاہر کی کہ ڈیجیٹل گرفتاری کے نام پر ہونے والے دھوکہ دہی کے واقعات سے رواں سال ہی ملک کو تقریباً 800 کروڑ روپے کا خالص مالی نقصان پہنچا ہے۔ عدالت نے کہا کہ مالیاتی اداروں کے لیے ضروری ہو کہ ہر مشتبہ لین دین کو فوری طور پر عارضی طور پر روک دیا جائے، متعلقہ معلومات خودکار طریقے سے مقامی پولیس اسٹیشن کو بھیجی جائیں اور بعد ازاں زمینی سطح پر جانچ کے ذریعے حقائق کی تصدیق کی جائے۔ بنچ نے یہ بھی کہا کہ ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے افسران کے ساتھ متعلقہ بینکنگ ادارے کو بھی براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہئے۔
سپریم کورٹ نے آر بی آئی کو ہدایت دی کہ سائبر جرائم میں استعمال ہونے والے ’مُول اکاؤنٹس‘ یعنی دوسروں کی غیر قانونی رقم کی منتقلی کے لیے استعمال ہونے والے کھاتوں پر قابو پانے کے لیے خصوصی توجہ دی جائے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل آر وینکٹ رامنی سے کہا کہ سائبر جرائم میں ملوث ملازمین کے خلاف بینکوں کی جانب سے کی گئی کارروائیوں کی تفصیلات اگلی سماعت تک پیش کی جائیں۔
مرکزی حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ جعلی ایجنسیوں اور فرضی افسران کے نام سے بھیجے جانے والے پیغامات کی شناخت کے لیے سافٹ ویئر تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واٹس ایپ اور دیگر پلیٹ فارمز پر تقریباً 9,400 اکاؤنٹس پہلے ہی بند کئے جا چکے ہیں۔ قومی سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل (این سی آر پی) کی خدمات کو بھی مزید تیز کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ ہریانہ کے ایک معمر جوڑے کو سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے افسران بن کر دھمکانے اور سپریم کورٹ کے جعلی احکامات دکھا کر ایک کروڑ پانچ لاکھ روپے سے زائد کی رقم لوٹنے کے واقعے پر عدالت نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے سماعت شروع کی تھی۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ فون پر گرفتاری کی دھمکی دینے والوں پر لوگ کیسے یقین کر لیتے ہیں، اور شہریوں کو قوانین سے متعلق آگاہی حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
سپریم کورٹ نے ملک بھر میں پھیلے سائبر جرائم کے اس نیٹ ورک کی سی بی آئی سے جامع تحقیقات کرانے اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال سے غیر قانونی کھاتوں کو فوری طور پر منجمد کرنے کے عمل میں تیزی لانے کے لیے آر بی آئی اور مرکزی حکومت کو ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔




