سعودی شہری آبادیوں پر حوثی حملوں سے جنگی جرائم کے سوالات کھڑے ہوئے ہیں – سربراہ ادارہ برائے انسانی حقوق

کے این واصف
سعودی عرب میں قابلِ لحاظ نقصانات اور مملکت بھر میں خوف دہشت کے ماحول بننے کے بعد بتاخیر سہی اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کے سربراہ نے کہا ہے کہ یمن میں موجود حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، شہری آبادیوں اور دیگر شہری بنیادی ڈھانچوں پر حملے “جنگی جرائم” سے متعلق سوالات کو جنم دیتے ہیں۔
مملکت سے شائع ہونے والے گلف کے کثیر الاشاعت انگریزی روزنامہ “عرب نیوز” کے ساتھ بات چیت میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے اقوام متحدہ کے درجنوں ملازمین کو حراست میں لیے جانے کی بھی مذمت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت کسی شہری ہوائی اڈے پر صرف اسی صورت میں حملہ کیا جا سکتا ہے جب وہ ایک جائز فوجی ہدف ہو۔ انہوں نے بدھ کو نیویارک میں ایک پریس بریفنگ کے دوران بھی یہ بات کہی۔ ان کے مطابق اگر آپ شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچوں پر حملے شروع کر دیتے ہیں تو یقیناً اس پر جنگی جرائم سے متعلق سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔
انہوں نے ایک بار پھر اس امر کی نشاندہی کی کہ حوثیوں نے اقوام متحدہ کے 71 کارکنوں کو حراست میں رکھا ہوا ہے، جن میں سے آٹھ کا تعلق خود ان کے دفتر سے ہے اور ان میں سے کئی برسوں سے قید ہیں۔
وولکر ترک نے رواں ماہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حوثیوں کے حملوں کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے مذمت کی جن کے نتیجے میں سعودی شہریوں اور غیرملکیوں کی ہلاکتیں ہوئی تھیں اور کافی لوگ زخمی بھی ہوئے تھے۔



