بی جے پی میں شامل نہ ہونے پر خاندان کو قتل کرنے کی دھمکی۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے سربراہ ابھیجیت دیپکے کا الزام

نئی دہلی: کاکروچ جنتا پارٹی کے سربراہ ابھیجیت دیپکے نے الزام لگایا ہے کہ انہیں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شامل ہونے کے لیے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔جمعرات کو مہاراشٹر کے چھترپتی سمبھاجی نگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ
انہیں لالچ دیا جا رہا ہے کہ اگر وہ بی جے پی میں شامل ہو جائیں تو ان کی اور ان کے خاندان کی زندگی بہتر ہو جائے گی۔انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ اگر وہ بی جے پی میں شامل نہ ہوئے تو ان کے خاندان کو قتل کرنے کی دھمکیاں فون کے ذریعے دی جا رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز افراد کی جانب سے اس طرح کی دھمکیاں دینا باعثِ شرم ہے۔ابھیجیت دیپکے نے کہا، "میری عمر وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے مقابلے میں کیا ہے؟ اگر وہ نوجوانوں کو ڈرانے کی سطح تک آ گئے ہیں تو ایسے اعلیٰ عہدوں کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے؟”
ابھیجیت دیپکے نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی پر مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے پولیس نے انہی کی ہدایت پر مظاہرین کے خلاف پیلٹ گنز استعمال کی ہوں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے خود پیلٹ گنز کا استعمال دیکھا ہے جبکہ بہار میں مبینہ طور پر اے کے-47 رائفلیں بھی استعمال کی گئیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ "جو ہتھیار اجمل قصاب جیسے دہشت گردوں کے خلاف استعمال ہونے چاہئیے کیا وہ نوجوانوں پر استعمال کیے جائیں گے؟”انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس کارروائی میں کئی طلبہ اپنی بینائی سے محروم ہو گئے۔ابھیجیت نے کہا کہ اگر حکومت کا یہ دعویٰ درست ہے کہ احتجاج کے لیے بیرونی فنڈنگ آ رہی ہے
تو یہ ملک کے سیکیورٹی نظام کی ناکامی ہے جس کی ذمہ داری وزیر داخلہ پر عائد ہوتی ہے۔



