نیشنل

السلام علیکم، انشاء اللہ، جزاک اللہ‘ کہنے پر ہنگامہ برپا -آئی پی ایس افیسر بشریٰ بانو کے خلاف محکمہ داخلہ سے شکایت

کولکتہ : مغربی بنگال کی آئی پی ایس افیسر بشریٰ بانو کے خلاف محکمہ داخلہ کے سکریٹری سے شکایت کی گئی ہے۔ ہندو لیگل فنڈ کی جانب سے دائر شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ایک سرکاری ویڈیو بیان کے دوران بشریٰ بانو نے مذہبی انداز کے سلام اور الفاظ کا استعمال کیا، جو شکایت کنندہ کے مطابق ایک سرکاری عہدے دار کے لئے مناسب نہیں۔

 

شکایت میں کہا گیا ہے کہ بشریٰ بانو نے اپنی ویڈیو کا آغاز ’’السلام علیکم‘‘ سے کیا، گفتگو کے دوران ’’ان شاء اللہ‘‘ کا لفظ استعمال کیا اور آخر میں ’’جزاک اللہ‘‘ کہہ کر بات ختم کی۔ شکایت کنندہ نے سوال اٹھایا کہ پولیس یونیفارم میں سرکاری عہدے کی حیثیت سے عوام سے خطاب کرتے ہوئے مذہبی سلام اور الفاظ کا استعمال کیا جانا مناسب ہے یا نہیں۔

 

شکایت کے مطابق ایک نیوز چینل سے گفتگو کے دوران بھی بشریٰ بانو پولیس یونیفارم میں نظر آئیں۔ شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ سرکاری عہدیداروں کے باضابطہ بیانات مذہبی اعتبار سے غیر جانب دار ہونے چاہئیں۔ شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے ’’وندے ماترم‘‘ یا ’’جے ہند‘‘ جیسے سلام کا استعمال نہیں کیا۔ ہندو لیگل فنڈ نے مغربی بنگال کے محکمہ داخلہ سے معاملہ کی جانچ کرکے مناسب کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

 

تاہم صرف شکایت درج ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بشریٰ بانو نے کوئی غلطی کی ہے۔ الزامات کی حقیقت کی جانچ متعلقہ حکام کریں گے اور اس کے بعد ہی کسی مزید کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

 

بشریٰ بانو 2021 بیچ کی آئی پی ایس افیسر ہیں۔ اترپردیش کے قنوج ضلع سے تعلق رکھنے والی بشریٰ بانو نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے مینجمنٹ میں پی ایچ ڈی کے ساتھ نیٹ اور جے آر ایف بھی حاصل کیا۔ سیول سروس میں آنے سے قبل انہوں نے مختلف شعبوں میں کام کیا اور سعودی عرب میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

 

بعد ازاں وہ ہندوستان واپس آئیں اور سیول سروسز میں شامل ہونے کے مقصد سے یو پی ایس سی کی تیاری شروع کی۔ ان کے شوہر نے بھی اس فیصلے میں ان کا ساتھ دیا اور وہ بچوں سمیت ہندوستان واپس آگئیں۔

 

بشریٰ بانو نے 2018 میں پہلی مرتبہ سیول سروسز کا امتحان پاس کرتے ہوئے 277 ویں رینک حاصل کی، جس کے بعد انہیں انڈین ریلوے ٹریفک سروس الاٹ ہوئی۔ اس وقت وہ اپنے دوسرے بچے کے ساتھ حاملہ تھیں، اس کے باوجود یو پی ایس سی انٹرویو میں شرکت کی۔

 

بعد میں انہوں نے دوبارہ سیول سروسز کا امتحان دیا اور 234 ویں رینک حاصل کرتے ہوئے آئی پی ایس کے لئے منتخب ہوئیں۔ انہیں مغربی بنگال کیڈر الاٹ کیا گیا۔ آئی پی ایس میں شمولیت سے قبل وہ اترپردیش کے فیروزآباد میں سب ڈویژنل مجسٹریٹ کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔

 

فیروزآباد میں ایس ڈی ایم کی حیثیت سے انہوں نے امن و امان اور انتظامی امور کی نگرانی کی۔ بعد ازاں پولیس محکمہ میں ذمہ داریاں سنبھالتے ہوئے ہگلی رورل میں ایڈیشنل ایس پی کے طور پر خدمات انجام دیں۔ جون 2026 میں مغربی بنگال میں متعدد آئی پی ایس افسران کو ترقی دی گئی، جس کے تحت بشریٰ بانو کو بھی ایڈیشنل ایس پی کے عہدے پر ترقی ملی۔

 

فی الحال وہ مغربی مدناپور کے کھڑگپور میں ایڈیشنل ایس پی کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔

Oplus_131072

متعلقہ خبریں

Back to top button