نیشنل

غلط پوسٹس کو لائک یا فارورڈ کرنا بھی جرم ہوسکتی ہے جیل: پولیس

حیدرآباد: کیا آپ سوشل میڈیا پر کسی کے غلط پوسٹس دیکھ کر بغیر سوچے سمجھے لائک کر دیتے ہیں یا دوسروں کو شیئر کر دیتے ہیں؟ تو آپ کے لیے یہ خبر اہم ہے۔

 

سائبر پولیس نے خبردار کیا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کسی فرد یا ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والی پوسٹس صرف بنانا ہی نہیں بلکہ انہیں لائک کرنا، دوبارہ پوسٹ (ری پوسٹ) کرنا یا واٹس ایپ گروپس میں فارورڈ کرنا بھی قانون کی نظر میں سنگین جرم ہو سکتا ہے۔

 

سائبر پولیس کے مطابق بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) 2023 کی نئی دفعات کے تحت جھوٹی معلومات پھیلانے میں حصہ لینے والے ہر شخص کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔عام طور پر بہت سے سوشل میڈیا صارفین کسی دوسرے شخص کی جانب سے پوسٹ کی گئی متنازع یا توہین آمیز پوسٹس کو بغیر سوچے سمجھے لائک کرنا یا گروپس میں شیئر کرنا معمول سمجھتے ہیں

 

لیکن بی این ایس کی دفعہ 356 کے تحت کسی شخص کی عزتِ نفس کو نقصان پہنچانے والی جھوٹی باتیں تیار کرنے والے کے ساتھ ساتھ اس پوسٹ کو لائک، ری پوسٹ یا شیئر کرکے اسے پھیلانے والے افراد کو بھی مقدمے میں شریک ملزم بنایا جا سکتا ہے۔ایسے جرم میں ملوث افراد کو دفعہ 357 کے تحت زیادہ سے زیادہ دو سال تک قید اور بھاری جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔

 

سوشل میڈیا ٹرولنگ اور جھوٹی تشہیر سے ذہنی اور سماجی نقصان اٹھانے والے متاثرین کے لیے قانون مدد فراہم کرتا ہے۔متاثرہ افراد ایسی پوسٹس کے اسکرین شاٹس، یو آر ایل لنکس اور لائک یا شیئر کرنے والوں کے پروفائل کی تفصیلات سائبر کرائم پولیس یا قریبی پولیس اسٹیشن میں شکایت کر کے جمع کروا سکتے ہیں۔

 

فوجداری مقدمات کے علاوہ متاثرین عدالت کے ذریعے لاکھوں روپے کے سول ہرجانے کا دعویٰ بھی دائر کر سکتے ہیں۔اظہارِ رائے کی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ کسی دوسرے شخص کی عزت اور وقار کو نقصان پہنچانے کی اجازت ہے۔

 

ڈیجیٹل دنیا میں ہر فرد کو ذمہ داری کے ساتھ برتاؤ کرنا چاہیے۔واٹس ایپ، انسٹاگرام، فیس بک، ایکس (ٹویٹر) جیسے پلیٹ فارمز پر کسی پوسٹ کو لائک کرنے یا دوسروں کو بھیجنے سے پہلے ایک لمحہ ضرور سوچیں۔

 

غلط معلومات کو فروغ دینا بھی جرم کا حصہ بن سکتا ہے۔لائک کرنے یا شیئر بٹن دبانے سے پہلے محتاط رہیں ورنہ قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button