وزیراعظم مودی سے سابق ہم جماعت کی ملاقات، زمین تنازعہ پر سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ

وزیراعظم مودی سے سابق ہم جماعت کی ملاقات، زمین تنازع پر سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ
نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی کے سابق ہم جماعت 81 سالہ اصغر علی ووہرا نے ان سے ملاقات کرتے ہوئے اپنی زمین پر مبینہ قبضے کے معاملہ میں سی بی آئی سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں تفصیلات پر مشتمل ایک مکتوب بھی وزیراعظم کو حوالے کیا۔
ممبئی کے میرا-بھایندر سے تعلق رکھنے والے اصغر علی ووہرا نے بتایا کہ انہوں نے گجرات کے وڈنگر میں واقع بی این اسکول میں مودی کے ساتھ تعلیم حاصل کی تھی۔ وہ 8 ستمبر کو اپنی اہلیہ کے ہمراہ اپنے سابق ہم جماعت وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے لیے پہنچے اور میرا-بھایندر میں کئی دہائیوں سے جاری زمین کے تنازعہ کی تفصیلات پیش کیں۔
ووہرا کے مطابق انہوں نے 1989 میں بھایندر ایسٹ کے نوگڑھ روڈ پر واقع 2,810 مربع میٹر اراضی رجسٹرڈ معاہدے کے ذریعے قانونی طور پر خریدی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ زمین نہ کبھی فروخت کی اور نہ ہی کسی کے نام منتقل کی۔
ووہرا نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی رکن اسمبلی نریندر مہتا سے مبینہ طور پر وابستہ بلڈرس نے جعلی دستاویزات تیار کرکے ان کی زمین پر قبضہ کرلیا۔ ان کے مطابق 2011 میں سویَم بلڈرس کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کے ذریعے جعلی دستاویزات تیار کئے گئے اور بعد میں ان کی اجازت یا رضامندی کے بغیر زمین کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ زمین کا ایک حصہ سویَم بلڈرس کے قبضے میں ہے، جبکہ دوسرا حصہ نریندر مہتا سے مبینہ تعلق رکھنے والی سیون الیون کنسٹرکشنز کے کنٹرول میں ہے۔ ووہرا نے الزام لگایا کہ زمین پر اپنے ملکیتی حقوق ہونے کے باوجود میرا-بھایندر میونسپل کارپوریشن کے ٹاؤن پلاننگ محکمہ نے متنازعہ اراضی پر تعمیرات کی اجازت بھی جاری کردی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ دستاویزات میں مبینہ ردوبدل میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنے میں میونسپل کارپوریشن، محکمہ مال اور مقامی پولیس کے عہدیدار ناکام رہے۔
ووہرا نے بتایا کہ 2015 میں جعلی دستاویزات سے متعلق الزامات پر انہوں نے ایف آئی آر درج کرائی تھی اور معاملہ عدالت تک پہنچا۔ تاہم ان کے مطابق ایف آئی آر درج ہونے کے تقریباً 11 سال بعد، رواں سال سی آئی ڈی نے اس معاملہ پر اپنی رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سیاسی دباؤ کے باعث کارروائی میں تاخیر ہوئی۔
ووہرا نے مزید الزام عائد کیا کہ 2025 میں انہیں پیشگی نوٹس دیئے بغیر اور اپنا موقف پیش کرنے کا موقع فراہم کئے بغیر ان کے خلاف جوابی مقدمہ درج کردیا گیا۔
انہوں نے وزیراعظم مودی سے پورے معاملہ کی سی بی آئی کے ذریعہ غیرجانبدارانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا اور اس سلسلہ میں ایک تفصیلی مکتوب بھی حوالے کیا۔
دوسری جانب وزیراعظم مودی سے ووہرا کی ملاقات کے بعد مقامی میونسپل حکام نے بھی زمین کے تنازعہ پر کارروائی شروع کردی ہے۔ حکام نے معاملہ کی سماعت کے لیے 16 ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے اور سویَم بلڈرس اور سیون الیون کنسٹرکشنز کے نمائندوں کو سماعت میں حاضر ہونے کی ہدایت دی ہے۔



