فلائی دبئی طیارے میں پانچ حیران کن واقعات، ہائی جیکنگ اور ممکنہ تباہی سے 174 مسافر محفوظ

نئی دہلی: اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں یکے بعد دیگرے پانچ ایسے واقعات پیش آئے جنہوں نے طیارے کو ممکنہ ہائی جیکنگ، دہشت گردانہ سازش اور تباہ کن حادثے سے بچا لیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پرواز میں موجود پانچ افراد نے بروقت اور انتہائی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بڑے فضائی حادثے کو ٹال دیا۔
30 ستمبر کو فلائی دبئی کی پرواز FZ-1073، 174 مسافروں کے ساتھ دبئی سے اسرائیل کے تل ابیب کے لیے روانہ ہوئی۔ پرواز تقریباً 30 ہزار فٹ کی بلندی پر تھی کہ عمان سے تعلق رکھنے والے کو پائلٹ نے مبینہ طور پر ہائی جیکنگ کی کوشش کی۔ اس نے بھارتی کپتان اسمتھ مچر پر تیز دھار ہتھیار سے حملہ کردیا۔ کاک پٹ میں ہونے والی اس جھڑپ کے باعث طیارہ قابو سے باہر ہوگیا اور تقریباً دو منٹ میں 17 ہزار فٹ نیچے آ گیا۔ طیارہ تیزی سے زمین کی جانب بڑھنے لگا، جس کے باعث مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اسی دوران طیارے کو تباہی کے دہانے سے بچانے کے لیے ایک کے بعد ایک پانچ اہم واقعات پیش آئے۔ کو پائلٹ کے حملے میں شدید زخمی بھارتی کپتان مچر زمین پر گرنے کے باوجود کاک پٹ کا دروازہ اَن لاک کرنے میں کامیاب ہوگئے اور مدد کے لیے پکارنے لگے۔
طیارے میں موجود پانچ افراد نے فوری کارروائی کی۔ پلمبر یانیو حیون، ڈینٹسٹ ڈاکٹر شوٹا موسیایف، انشورنس ایجنسی کے مالک اساف رزووان اور بینکر زویکا مانس نے انتہائی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے کاک پٹ میں داخل ہوکر کو پائلٹ کو قابو کیا۔ انہوں نے مسافروں کو دیے گئے ہیڈ فونز کی کیبلز کا استعمال کرتے ہوئے اسے باندھ دیا اور طیارے کے کنٹرول پینلز کو نقصان پہنچانے کی اس کی کوشش ناکام بنا دی۔
اسی دوران ڈینٹسٹ ڈاکٹر شوٹا موسیایف نے زخمی بھارتی کپتان کی جان بچانے کی کوششیں شروع کردیں۔ انہوں نے خون بہنے سے روکنے اور کپتان کی حالت مستحکم رکھنے پر توجہ مرکوز کی۔
دوسری جانب اسرائیلی پلمبر یانیو حیون نے بھی انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ وہ طیاروں سے متعلق ٹی وی پروگرام شوق سے دیکھتے تھے اور اگرچہ انہیں پائلٹ کی باقاعدہ تربیت حاصل نہیں تھی، تاہم اپنی معلومات کی بنیاد پر فوری طور پر طیارے کو قابو کرنے کی کوشش کی۔ انہیں معلوم تھا کہ طیارے کے اسٹیئرنگ لیورز کو اوپر کھینچنا ضروری ہے۔ انہوں نے ایسا ہی کیا، جس کے نتیجے میں طیارہ دوبارہ کنٹرول میں آ گیا۔
خوش قسمتی سے دو ایسے پائلٹ بھی اسی پرواز میں بطور مسافر موجود تھے جو اس وقت ڈیوٹی پر نہیں تھے۔ دونوں نے فوری طور پر کاک پٹ کی ذمہ داری سنبھالی اور طیارے کا رخ سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ کی جانب موڑ کر ہنگامی لینڈنگ کرائی۔
تاہم ہزاروں فٹ کی بلندی تیزی سے کھونے کے باعث طیارے کے پچھلے حصے کو شدید نقصان پہنچا۔ دم کے حصے میں موجود اہم رَڈر کا بڑا حصہ ٹوٹ گیا تھا۔ اس کے باوجود طیارے کا بحفاظت لینڈ کرنا اس واقعے کا آخری اور سب سے بڑا حیران کن پہلو ثابت ہوا۔ دم کے حصے کو شدید نقصان پہنچنے کے باوجود طیارے کے حادثے کا شکار نہ ہونے پر ماہرینِ ہوا بازی بھی حیران رہ گئے۔
اس واقعے میں بڑے فضائی حادثے کو روکنے میں کردار ادا کرنے والے پانچوں افراد کو سراہا جا رہا ہے۔



