این آر آئی

امریکن ڈریم مدھم پڑنے لگا — ہندوستانی این آر آئیز افراد کی بڑی تعداد امریکہ چھوڑنے پر مجبور

بہت سی امیدوں اور خوابوں کے ساتھ امریکہ جانے والے ہندوستانی این آر آئیز افراد کے ارمان اب آہستہ آہستہ ماند پڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے صدر بنتے ہی وہاں مقیم ہندوستانی افراد کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک تازہ سروے کے مطابق تقریباً 40 فیصد ہندوستانی این آر آئیز اب امریکہ چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں۔

 

اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں تقریباً 52 لاکھ ہندوستانی افراد رہائش پذیر ہیں، لیکن ان میں سے بڑی تعداد کا “امریکن ڈریم” ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کی بڑی وجہ امریکہ کا موجودہ سیاسی ماحول بتایا جا رہا ہے۔   ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ایک ہزار افراد کی رائے لینے پر معلوم ہوا کہ 14 فیصد لوگ اکثر امریکہ چھوڑنے کا سوچتے ہیں جبکہ 26 فیصد نے کہا کہ وہ کبھی کبھار اس بارے میں سوچتے ہیں۔ ہر 10 میں سے 6 افراد (58 فیصد) نے امریکی سیاست سے بیزاری ظاہر کی، جبکہ 41 فیصد نے اپنی ذاتی سلامتی پر خدشات کا اظہار کیا۔

 

معاشی دباؤ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ San Francisco، Seattle اور New York City جیسے بڑے شہروں میں ایک بیڈ روم اپارٹمنٹ کا کرایہ ماہانہ 3,000 سے 5,000 ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جس سے متوسط طبقے کے لیے گزارا مشکل ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ مہنگائی اور ملازمت کے عدم تحفظ نے بھی پریشانیوں میں اضافہ کیا ہے۔

 

سروے کے مطابق 71 فیصد ہندوستانی افراد کو ٹرمپ حکومت کی معاشی، امیگریشن اور خارجہ پالیسیوں سے سخت اختلاف ہے۔ “امریکہ صرف امریکیوں کے لیے” جیسے نعروں اور بیانات نے ہندوستانی کمیونٹی میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا دیا ہے اور ان کے اندر اپنے آپ کو اس ملک کا حصہ سمجھنے کا جذبہ کمزور پڑتا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button