تلنگانہ کی ذات پات کی مردم شماری نے کھولے سماجی توازن کے راز — کون کتنا طاقتور؟

تلنگانہ حکومت کی جانب سے ذات پات پر مبنی مردم شماری کی تفصیلی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے، جس میں ریاست کی آبادی، سماجی ڈھانچے اور مختلف طبقات کی نمائندگی سے متعلق اہم اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ اس رپورٹ کو ریاست کی سماجی و سیاسی صورتحال کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تلنگانہ کی کل آبادی تقریباً 3 کروڑ 54 لاکھ بتائی گئی ہے، جس میں پسماندہ طبقات (بی سی) کی تعداد ایک کروڑ 64 لاکھ سے زائد ہے۔ اس کے علاوہ درج فہرست ذاتیں (دلت) 61 لاکھ سے زیادہ، مسلم آبادی 44 لاکھ 54 ہزار سے زائد جبکہ قبائلی طبقات کی تعداد 37 لاکھ 5 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
مسلم آبادی کے حوالے سے رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ریاست میں مسلمانوں کا تناسب 12.56 فیصد ہے۔ ان میں بی سی مسلمانوں کی تعداد 35 لاکھ 76 ہزار کے قریب ہے، جبکہ دیگر زمروں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی تعداد 8 لاکھ 80 ہزار بتائی گئی ہے، جو ریاست کے سماجی ڈھانچے میں ان کی نمایاں موجودگی کو ظاہر کرتی ہے۔
رپورٹ میں ریاست کی بڑی ذاتوں کا بھی تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے، جس کے مطابق مادیگا برادری 36.58 لاکھ کے ساتھ سب سے بڑی ذات کے طور پر سامنے آئی ہے، جبکہ شیخ مسلم برادری 27.96 لاکھ کے ساتھ نمایاں مقام رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ مدیراج تقریباً 26 لاکھ، بنجارہ/لمباڑہ 24 لاکھ، یادو 20 لاکھ، ریڈی 17 لاکھ، گوڑ 16 لاکھ، مالا 14 لاکھ، منورو کاپو 13 لاکھ اور پرماشالی تقریباً 12 لاکھ کی تعداد میں موجود ہیں۔
دیگر اہم طبقات میں نائی برہمن 4.30 لاکھ، کما 3.68 لاکھ، برہمن 3.36 لاکھ اور ویلما 1.44 لاکھ شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار ریاست میں وسائل کی تقسیم، ریزرویشن پالیسی اور سیاسی حکمت عملی کے تعین میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔



