تلنگانہ

کیا رمضان المبارک کے مہینے میں شراب کی فروخت پر بھی پابندی عائد کی جائے گی ؟ بیرسٹر اویسی

دیگر مذاہب کے تہواروں پر گوشت فروخت پر پابندی لگتی ہے تو رمضان میں شراب فروخت پر بھی پابندی عائد کی جائے: بیرسٹر اسدالدین اویسی

 

حیدرآباد: ملک کی بعض ریاستوں میں مختلف مذہبی تہواروں کے موقع پر گوشت کی فروخت پر پابندی عائد کئے جانے کے معاملے پر مجلس کے صدر اور رکن پارلیمنٹ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر دیگر مذاہب کے تہواروں کے دوران گوشت کی فروخت پر پابندی لگائی جاتی ہے تو کیا رمضان المبارک کے مہینے میں شراب کی فروخت پر بھی پابندی عائد کی جائے گی؟

 

حیدرآباد میں مجلس کے مرکزی دفتر میں ہفتہ کے روز منعقدہ عید ملاپ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر اویسی نے کہا کہ بعض مذہبی تہواروں کے دوران مخصوص پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، جس سے بعض طبقات کے ساتھ امتیازی سلوک کا تاثر پیدا ہو رہا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ آئین ہند کے آرٹیکل 25 کے مطابق اگر سڑکوں پر نماز ادا کرنا غلط قرار دیا جاتا ہے تو پھر سڑکوں پر منعقد ہونے والے تمام مذہبی تہواروں اور تقریبات پر بھی یکساں طور پر پابندی ہونی چاہئے۔ بیرسٹر اویسی نے کہا کہ جس طرح بعض تہواروں کے موقع پر گوشت کی فروخت روک دی جاتی ہے، اسی طرح رمضان المبارک کے پورے 30 دنوں کے دوران شراب کی فروخت پر بھی پابندی عائد کی جانی چاہئے۔

 

اس موقع پر بیرسٹر اویسی نے آسام میں یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) سے متعلق حالیہ پیش رفت پر بھی اعتراضات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندو شادیوں اور خاندانی روایات سے متعلق قوانین کو مسلمانوں پر مسلط کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر یو سی سی قانون سے قبائلی برادریوں کو استثنا دیا جا سکتا ہے تو پھر دیگر طبقات کو اس سے مستثنیٰ کیوں نہیں رکھا جا رہا؟

 

اویسی نے کہا کہ آسام کی آبادی میں تقریباً 12 فیصد قبائلی افراد شامل ہیں، جنہیں اس قانون سے باہر رکھا گیا ہے، جبکہ دیگر طبقات پر اسے نافذ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شادی اور خاندانی رشتوں کے حوالے سے ہندو اور مسلم قوانین میں واضح فرق موجود ہے۔ ہندو مذہب میں بعض رشتوں میں شادی سے متعلق مخصوص قواعد ہیں، جبکہ مسلمانوں میں ایسے اصول نہیں پائے جاتے۔ انہوں نے سوال کیا کہ مسلمانوں کو ان کے مذہبی قوانین پر عمل کرنے سے روکنے کا اختیار حکومت کو کس نے دیا ہے؟

 

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دیگر مذاہب کے شخصی قوانین کو مسلمانوں پر مسلط کرنے کی کوشش نہ کی جائے اور مذہبی آزادی کے آئینی حق کا احترام کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button