تلنگانہ

پارٹی بدلی تو گئی کرسی – دانم ناگیندر کو ہائی کورٹ نے اسمبلی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا

تلنگانہ ہائی کورٹ نے پارٹی تبدیل کرنے کے معاملے میں ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے خیریت آباد کے رکن اسمبلی دانم ناگیندر کو نااہل قرار دے دیا۔ عدالت نے انہیں 23 اپریل 2024 سے نااہل قرار دیا ہے۔ دانم ناگیندر نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کے امیدوار کی حیثیت سے مقابلہ کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے کانگریس کی جانب سے لوک سبھا انتخابات لڑنے کے معاملے کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے اسپیکر کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔

 

واضح رہے کہ پارٹی تبدیل کرنے سے متعلق قانون کے تحت دانم ناگیندر کو نااہل قرار دینے سے اسپیکر کے انکار کو چیلنج کرتے ہوئے بی آر ایس کے رکن اسمبلی پادی کوشک ریڈی اور بی جے پی قانون ساز پارٹی کے لیڈر ایلیٹی مہیشور ریڈی نے الگ الگ ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں۔

 

درخواست گزاروں کے وکلا گنڈرا موہن راؤ اور وویک ریڈی نے عدالت کو بتایا تھا کہ دانم ناگیندر بی آر ایس کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی منتخب ہونے کے بعد پارٹی سے استعفیٰ دیے بغیر کانگریس میں شامل ہوگئے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کانگریس کے امیدوار کی حیثیت سے سکندرآباد لوک سبھا نشست سے بھی انتخابات لڑا تھا۔ وکلا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ پارٹی تبدیل کرنے کے اس سے زیادہ واضح ثبوت اور کیا ہوسکتے ہیں، لہٰذا انہیں نااہل قرار دیا جانا چاہیے۔

 

دوسری جانب دانم ناگیندر کے وکلا نے ہائی کورٹ سے درخواست کی کہ وہ سپریم کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنا چاہتے ہیں، اس لیے انہیں ایک گھنٹے کا وقت دیا جائے اور اس دوران ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد معطل رکھا جائے۔ تاہم ہائی کورٹ نے یہ درخواست مسترد کردی۔

 

بی آر ایس کے وکلا نے کہا کہ اگر دانم ناگیندر سپریم کورٹ سے رجوع بھی کرتے ہیں تو انہیں راحت ملنے کا امکان نہیں ہے اور حلقے میں ضمنی انتخاب ناگزیر ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button