حیدرآباد میں بنگلہ دیشی خواتین کو نوکری کا لالچ، پھر جسم فروشی پر مجبور کیا ؛ 9 افراد کو عمر قید

حیدرآباد: انسانی اسمگلنگ کے ایک معاملہ میں حیدرآباد کی خصوصی این آئی اے عدالت نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے 9 ملزمین کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے تمام مجرموں پر مجموعی طور پر ایک لاکھ 37 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید تین ماہ کی سادہ قید بھگتنے کا حکم دیا گیا ہے۔ این آئی اے کے مطابق سزا پانے والوں میں 8 افراد بنگلہ دیش کے شہری ہیں۔
پہاڑی شریف پولیس نے ستمبر 2019 میں بنگلہ دیشی خواتین کو غیر قانونی طور پر ہندوستان لانے کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا۔ بعد میں این آئی اے نے اس معاملے کی تحقیقات اپنے ہاتھ میں لے لی۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملزمین خواتین کو اچھی ملازمت اور بہتر تنخواہ کا لالچ دے کر ہندوستان لاتے تھے اور بعد میں انہیں زبردستی جسم فروشی کے دھندے میں دھکیل دیتے تھے۔
مقدمہ درج ہونے کے بعد 2019 میں پہاڑی شریف پولیس نے جل پلی میں واقع ایک جسم فروشی کے اڈے پر دھاوا بول کر تین بنگلہ دیشی خواتین کو آزاد کرایا تھا۔ اسی دوران بالا پور کے محمود کالونی میں واقع ایک مکان سے ایک اور خاتون کو بھی بازیاب کرایا گیا تھا۔
بعد ازاں این آئی اے نے اس معاملہ کو دوبارہ درج کرتے ہوئے تحقیقات آگے بڑھائی۔ ایجنسی نے 17 اکتوبر 2020 کو مجموعی طور پر 12 ملزمین کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔ تلنگانہ اور مغربی بنگال سمیت مختلف علاقوں سے کئی ملزمین کو گرفتار کیا گیا، جبکہ تین ملزمین اب بھی مفرور ہیں۔



