موبائل فون کی قسط ادا نہ کرنے پر نوجوان کا اغوا – 5 دن یرغمال بناکر جبری مشقت اور خون بھی نکلوایا

لکھنؤ: اترپردیش کے لکھنؤ میں موبائل فون کی قسط ادا نہ کرنے پر ایک نوجوان کو مبینہ طور پر اس کے گھر سے اغوا کرکے پانچ دن تک یرغمال بنا کر رکھا گیا اور اس سے جبری مشقت کروائی گئی۔ افراد خاندان نے مزید الزام عائد کیا کہ ملزمان نوجوان کو ایک بلڈ بینک لے گئے، جہاں اس کی مرضی کے خلاف ایک یونٹ خون بھی نکلوایا گیا۔
افراد خاندان کے مطابق ملزمان نے ابتدا میں نوجوان کے بڑے بھائی کے موبائل فون کی ماہانہ قسط 2,799 روپے ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ قسط کی رقم ادا کرنے کے باوجود ملزمان نے نوجوان کو رہا نہیں کیا اور مزید 12 ہزار روپے کا مطالبہ کیا۔
افراد خاندان کا الزام ہے کہ ملزمین نے انہیں سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس سے رجوع کیا گیا تو نوجوان کو قتل کرکے اس کی لاش گومتی ندی میں پھینک دی جائے گی۔
یہ واقعہ لکھنؤ کے نگوہاں پولیس اسٹیشن حدود میں واقع راجارام کھیڑا گاؤں میں پیش آیا۔ افراد خاندان کی کوششوں کے بعد پولیس نے بالآخر نوجوان کو بازیاب کرا لیا۔ تاہم خاندان کا الزام ہے کہ ابتدائی طور پر پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرانے کی کوشش کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
بعد ازاں نوجوان کی والدہ جادورائی نے پیر کے روز ڈی سی پی دفتر پہنچ کر شکایت کی۔ اس پر ڈی سی پی محمد مشتاق نے نگوہاں پولیس اسٹیشن انچارج کو فوری طور پر مقدمہ درج کرکے ملزمین کو گرفتار کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے پولیس کی مبینہ غفلت کے الزامات کی بھی تحقیقات کا حکم دیا۔
ساؤتھ زون کے ایڈیشنل ڈی سی پی وسنت کمار رالاپلی نے بتایا کہ ایک نامعلوم شخص اور شبھم سنگھ کے خلاف بی این ایس کی دفعات 143(3) (انسانی اسمگلنگ)، 146 (غیر قانونی مشقت)، 127(3) (غیر قانونی طور پر حبس میں رکھنا) اور 115(2) (زخمی کرنے) کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
نوجوان کے بڑے بھائی راج کمار کے مطابق، تقریباً ایک سال قبل خاندان نے نگوہاں قصبے کی گیتا موبائل شاپ سے 21,500 روپے مالیت کا سام سنگ موبائل فون زیرو ڈاؤن پیمنٹ اسکیم کے تحت خریدا تھا۔ فون کی 12 ماہ کی ای ایم آئی مقرر کی گئی تھی، جس کی ماہانہ قسط 2,799 روپے تھی۔
راج کمار کا کہنا ہے کہ فون خریدنے کے ایک ماہ بعد دکان کے ملازمین ان کے گھر پہنچے اور موبائل فون واپس لے گئے۔
نوجوان کی والدہ جادورائی نے الزام عائد کیا کہ 8 ستمبر کو دو افراد اسکوٹر پر گاؤں پہنچے اور زبردستی ان کے بیٹے کو اپنے ساتھ لے گئے۔
ان کے مطابق ملزمین پہلے نوجوان کو لکھنؤ کے ایک بلڈ بینک لے گئے، جہاں مبینہ طور پر اس کی مرضی کے خلاف ایک یونٹ خون نکالا گیا۔ اس کے بعد اسے صدر علاقے میں واقع ایک مکان میں لے جایا گیا، جہاں تقریباً پانچ دن تک اسے یرغمال بنا کر رکھا گیا اور اس سے جبری مشقت کروائی گئی۔
افراد خاندان کے مطابق اس دوران نوجوان کو مکان سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
خاندان کا الزام ہے کہ نوجوان کو اپنی تحویل میں لینے کے بعد ملزمان نے اس کے بڑے بھائی سے رابطہ کیا اور 2,799 روپے کی بقایا موبائل قسط ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ راج کمار نے مبینہ طور پر آن لائن رقم منتقل کردی اور اس کے بعد اپنے بھائی کو رہا کرنے کے لیے کہا، لیکن ملزمان نے اسے رہا کرنے کے بجائے مزید 12 ہزار روپے کا مطالبہ کردیا۔
افراد خاندان کا مزید الزام ہے کہ ملزمین نے دھمکی دی کہ اگر پولیس کو اطلاع دی گئی یا اضافی رقم ادا نہ کی گئی تو نوجوان کو قتل کرکے اس کی لاش گومتی ندی میں پھینک دی جائے گی۔
دھمکیوں کے بعد خاندان نے پولیس سے رابطہ کیا۔ اہل خانہ کے مطابق پولیس کی مداخلت کے بعد پانچویں روز ملزمان نے نوجوان کو ریپڈ کیاب کے ذریعہ پولیس اسٹیشن بھیجنے پر رضامندی ظاہر کی۔ کیاب کا کرایہ بھی راج کمار نے ادا کیا۔




