تلنگانہ ہائی کورٹ نے صحافیوں کے ایکریڈیشن کارڈز کی مدت 15 جولائی تک بڑھا دی

حیدرآباد، 16 جون: تلنگانہ ہائی کورٹ نے ریاست بھر کے صحافیوں کے ایکریڈیشن کارڈز کی میعاد 15 جولائی 2026 تک بڑھانے کا حکم جاری کیا ہے۔
عدالت نے یہ ہدایت ان عرضیوں کی سماعت کے دوران دی، جن میں حکومت کے جاری کردہ جی او ایم ایس نمبر 252 اور اس میں کی گئی ترامیم کو چیلنج کرتے ہوئے داخل کی گئی تھی ۔
تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن اور دیگر کی جانب سے دائر درخواستوں میں مذکورہ حکومتی احکامات کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا گیا تھا۔ ساتھ ہی مقدمے کی سماعت مکمل ہونے تک صحافیوں کو ایکریڈیشن سے متعلق تمام سہولیات جاری رکھنے کی استدعا بھی کی گئی تھی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈوکیٹ برکت علی خان نے عدالت میں نمائندگی کی۔
سماعت کے دوران اسپیشل ایڈوکیٹ جنرل نے ریاستی حکومت کا موقف عدالت کے سامنے پیش کیا۔ حکومت کا مؤقف سننے کے بعد عدالت نے موجودہ ایکریڈیشن کارڈز کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصلہ کیا۔
ہائی کورٹ نے واضح ہدایت دیتے ہوئے حکم دیا کہ تمام موجودہ ایکریڈیشن کارڈز 15 جولائی 2026 تک مؤثر اور کارآمد رہیں گے۔
اس فیصلے کے نتیجے میں تلنگانہ بھر کے منظور شدہ صحافی سرکاری تقریبات اور دیگر سرکاری سرگرمیوں میں بغیر کسی رکاوٹ کے شرکت کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ ایکریڈیشن سے وابستہ تمام سہولیات اور مراعات بھی بدستور جاری رہیں گی، جس سے صحافیوں کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں کسی قسم کی خلل پیدا نہیں ہوگا۔
دریں اثنا، تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن نے ایڈوکیٹ برکت علی خان کے ذریعے ایک عبوری درخواست بھی دائر کی، جس میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ حکومت درخواستوں، جاری کردہ کارڈز اور مسترد شدہ درخواستوں کی مکمل تفصیلات اور مسترد کیے جانے کی وجوہات ریکارڈ پر پیش کرے۔ عدالت آئندہ سماعت میں اس درخواست پر غور کرے گی۔
فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری سید غوث محی الدین نے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے وقتی راحت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مستقل اور منصفانہ حل کے حصول کے لیے فیڈریشن اپنی قانونی جدوجہد جاری رکھے گی۔
عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 22 جولائی 2026 مقرر کی ہے۔ اس مقدمے کا حتمی فیصلہ متنازعہ حکومتی احکامات کی قانونی حیثیت کا تعین کرے گا۔ اس وقت تک صحافی بغیر کسی غیر یقینی صورتحال کے اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں گے۔
یہ پیش رفت ریاست بھر کے میڈیا اداروں اور صحافی برادری کے لیے اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف ان کے کام میں استحکام آئے گا بلکہ ایکریڈیشن پالیسیوں اور ان کے نفاذ سے متعلق جاری خدشات بھی اجاگر ہوں گے۔



