ریاض ایئرپورٹ پر حملے میں حیدرآباد کا 46 سالہ عمرہ زائر جاں بحق، بیوی اور دو بچے شدید زخمی -مدینہ منورہ روانگی کے انتظار میں تھا خاندان،
ریاض ایئرپورٹ پر حملے میں حیدرآباد کا 46 سالہ عمرہ زائر جاں بحق، بیوی اور دو بچے شدید زخمی
مدینہ منورہ روانگی کے انتظار میں تھا خاندان، ریاض کے ہاسپٹل میں زخمیوں کا آئی سی یو میں علاج جاری
ریاض: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہفتہ 10 اکتوبر کو پیش آئے حملے میں حیدرآباد کے علاقہ مہدی پٹنم سے تعلق رکھنے والے 46 سالہ محمد یوسف جاں بحق ہوگئے میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ ریاض میں آئی ٹی پروفیشنل کے طور پر کام کر رہے تھے اور تقریباً ایک ہفتہ قبل اپنی اہلیہ، دو بیٹوں اور بیٹی کے ساتھ عمرہ کی ادائیگی کے لئے حیدرآباد سے سعودی عرب پہنچے تھے۔
اطلاعات کے مطابق محمد یوسف کا خاندان مدینہ منورہ روانہ ہونے کے لئے ایئرپورٹ پر انتظار کر رہا تھا کہ اسی دوران یہ واقعہ پیش آیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے کے بعد گرے ملبے کی زد میں آنے سے محمد یوسف کی ٹانگوں پر شدید چوٹیں آئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ کچھ دیر کے لیے ہوش میں آئے، تاہم بعد میں انہیں دل کا دورہ پڑا۔ ان کی موت کی اصل وجوہات اور واقعے کی تفصیلات کی سرکاری طور پر توثیق نہیں ہوئی ہے۔
اس واقعے میں محمد یوسف کی اہلیہ، بیٹی اور چھوٹا بیٹا بھی زخمی ہوئے ہیں اور ریاض کے ایک ہاسپٹل کے انتہائی نگہداشت وارڈ (آئی سی یو) میں زیر علاج بتائے گئے ہیں۔ ان کے بڑے بیٹے کو شیشے کے ٹکڑے لگنے سے متعدد زخم آئے اور اس کی حالت بھی تشویشناک بتائی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق محمد یوسف ریاض میں ملازمت کے دوران گھر سے آن لائن کام کرتے تھے اور ہر دو سے تین ماہ میں حیدرآباد آیا کرتے تھے۔ ان کا بڑا بیٹا قرآن مجید حفظ کر رہا تھا، جبکہ چھوٹے بیٹے نے حال ہی میں نیٹ (NEET) امتحان میں شرکت کی تھی۔ ان کی بیٹی اسکول میں زیر تعلیم ہے۔
سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (GACA) کے مطابق اس حملے میں 12 افراد ہلاک اور 309 زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں چار سعودی شہری اور آٹھ غیر ملکی شامل تھے، جن کا تعلق بنگلہ دیش، امریکہ، مصر، اردن، شام، فلسطین اور سوڈان سے بتایا گیا ہے۔ زخمیوں میں کئی افراد کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے ہفتہ 10 اکتوبر کو اعلان کیا کہ حملے کے بعد کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازوں اور دیگر سرگرمیوں کو عارضی طور پر معطل کردیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایئرپورٹ کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لینے اور متعلقہ اداروں کے تعاون سے تنصیبات کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا۔



