امیر پیٹ آتشزدگی متاثرین سے کے کویتا کی ملاقات اور اظہار ہمدردی

امیر پیٹ آتشزدگی متاثرین سے کے کویتا کی ملاقات اور اظہار ہمدردی
*حکام کی لاپرواہی کے باعث تقریبا تین تا چار کروڑ روپئے کی املاک خاکستر*
*مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے حکومت سے موثر اقدامات پر زور*
امیرپیٹ میں آتشزدگی کے واقعہ کے بعد تلنگانہ رکشنا سینا چیف کلواکنٹلہ کویتا نے متاثرہ شاپنگ کامپلکس کا دورہ کیا اور متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کیا۔متاثرین نے کویتا کو بتایا کہ آگ لگنے کے خدشات کے بارے میں وہ گزشتہ تین ماہ سے حکام کو آگاہ کرتے آ رہے تھے تاہم متعلقہ عہدیداروں نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی جس کے نتیجہ میں یہ حادثہ پیش آیا
۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ امیرپیٹ میں پیش آنے والا آتشزدگی کا واقعہ اچانک نہیں تھا بلکہ اس کے پس منظر میں پہلے سے موجود خطرات شامل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کامپلکس کے پچھلے حصے میں موجود میس کی وجہ سے ماضی میں شارٹ سرکٹ کے واقعات پیش آ چکے تھے اور آگ لگنے کے امکانات واضح تھے۔
انہوں نے کہا کہ حکام کی لاپرواہی کے باعث یہ بڑا نقصان ہوا، جس میں تقریباً تین سے چار کروڑ روپئے کی املاک جل کر خاکستر ہو گئی۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ واقعہ کے ایک گھنٹہ پندرہ منٹ بعد تک بھی فائر انجن موقع پر نہیں پہنچ سکے اگر بروقت کارروائی کی جاتی تو نقصان کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا تھا۔کویتا نے کہا کہ متاثرہ دکانوں کے مالکان کے پاس تمام ضروری این او سی موجود تھے، اس لئے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ انہیں مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے اور ان کی مدد کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ متعلقہ اداروں کی جانب سے انسپکشن کئے جانے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں، تاہم اس کے باوجود اس طرح کا واقعہ پیش آنا تشویشناک ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ رواں سال گرمیوں میں آتشزدگی کے واقعات کو روکنے کے لئے کئے گئے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آئے، لیکن ابھی بھی اس معاملے پر مزید سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ خوش قسمتی سے اس حادثہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم اس طرح کے واقعات کسی بھی وقت پیش آ سکتے ہیں لہٰذا ایسے تمام عمارتوں میں باقاعدہ معائنہ کیا جانا چاہئے تاکہ مستقبل میں آتشزدگی جیسے واقعات کو روکا جا سکے۔



