تلنگانہ کابینہ میں مسلمانوں کو زیادہ نمائندگی دی جائے: سرکردہ مسلم تنظیموں کا مطالبہ – مولانا جعفر پاشا کا کانگریس ہائی کمان کو مکتوب جاری

تلنگانہ کابینہ میں مسلمانوں کو زیادہ نمائندگی دی جائے: سرکردہ مسلم تنظیموں کا مطالبہ
مولانا جعفر پاشا کا کانگریس ہائی کمان کو مکتوب جاری، مزید ایک مسلم وزیر، ایم ایل سی نامزدگی اور راجیہ سبھا میں مناسب حصہ دینے کا مطالبہ
حیدرآباد، 12 جون: امیرِ امارتِ ملتِ اسلامیہ تلنگانہ و آندھرا پردیش مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشا نے کانگریس ہائی کمان اور تلنگانہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ریاستی کابینہ، ایم ایل سی نامزدگیوں، راجیہ سبھا نشستوں اور دیگر نامزد عہدوں میں مسلمانوں کو زیادہ اور منصفانہ نمائندگی فراہم کرنے کے لئے فوری اصلاحی اقدامات کئے جائیں۔
حسامی منزل، پنجہ شاہ میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا جعفر پاشا نے ایک مکتوب جاری کیا جو آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر ملکارجن کھرگے، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی، لوک سبھا میں قائدِ اپوزیشن راہول گاندھی اور چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے نام روانہ کیا گیا ہے۔
سرکردہ مسلم تنظیموں کی جانب سے ارسال کردہ اس مکتوب میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تلنگانہ کابینہ میں کم از کم ایک اور مسلم وزیر کو شامل کیا جائے، ایک مسلم قائد کو ایم ایل سی نامزد کیا جائے اور راجیہ سبھا سمیت دیگر نامزد عہدوں میں مسلمانوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے مناسب نمائندگی دی جائے۔
مولانا جعفر پاشا نے کہا کہ تلنگانہ میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 14 فیصد ہے اور انہوں نے ترقی، فلاح و بہبود اور اقتدار میں شمولیت کی امید کے ساتھ کانگریس کی حمایت کی تھی۔ تاہم 16 رکنی کابینہ میں فی الحال صرف ایک مسلم وزیر محمد اظہرالدین شامل ہیں، جنہیں اکتوبر 2025 میں ایم ایل سی کے ذریعہ کابینہ میں شامل کیا گیا تھا اور انہیں پبلک انٹرپرائزز اور اقلیتی بہبود جیسے محکمے سونپے گئے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس مسلمانوں کی حمایت سے اقتدار میں آئی لیکن حکومت میں مسلم برادری کو مناسب جگہ نہیں ملی۔ انھوں نے کہا کہ اگر کانگریس آبادی کی بنیاد پر انصاف کی بات کرتی ہے تو تلنگانہ کے مسلمانوں کو بھی زیادہ نمائندگی ملنی چاہئے۔
مکتوب میں کہا گیا ہے کہ مسلم برادری نے ہمیشہ کانگریس پر سیکولرزم، سماجی انصاف، آئینی اقدار اور اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے عزم کی بنیاد پر اعتماد کیا ہے۔ دسمبر 2023 میں 12 وزراء پر مشتمل کابینہ تشکیل دی گئی، جون 2025 میں درج فہرست ذاتوں (SC) اور پسماندہ طبقات (BC) کی نمائندگی بڑھانے کے لیے تین وزراء کو شامل کیا گیا اور بعد ازاں اکتوبر 2025 میں محمد اظہرالدین کو کابینہ میں شامل کیا گیا، لیکن ان تمام مراحل کے باوجود مسلم نمائندگی صرف ایک وزارت تک محدود رہی۔
مکتوب میں کابینہ کی ذاتوں اور طبقات کے اعتبار سے تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ اعلیٰ ذاتوں اور او سی طبقات کے 7 وزراء ہیں جن میں چار ریڈی، ایک برہمن، ایک ویلاما اور ایک کمّا برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ درج فہرست ذاتوں کے چار وزراء اور اسپیکر کا عہدہ موجود ہے جبکہ بی سی طبقات کے تین وزراء اور درج فہرست قبائل کا ایک وزیر شامل ہے۔ اس کے برعکس مسلمانوں کو صرف ایک وزارت حاصل ہے۔
مسلم تنظیموں نے نشاندہی کی کہ ریاست کی آبادی میں 10 فیصد سے بھی کم حصہ رکھنے والی اعلیٰ ذاتیں چیف منسٹر کے عہدے سمیت سات اہم مناصب پر فائز ہیں جبکہ تقریباً 14 فیصد آبادی رکھنے والی مسلم برادری کو صرف ایک وزارت دی گئی ہے، جو سماجی انصاف اور سیاسی نمائندگی دونوں اعتبار سے غیر متوازن صورتحال ہے۔
مولانا جعفر پاشا نے کہا کہ مسئلہ صرف کابینہ کی ایک نشست تک محدود نہیں بلکہ مختلف کارپوریشنوں کی صدارتوں اور دیگر بااختیار عہدوں میں بھی مسلمانوں کو ان کا جائز حصہ نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چند مسلم چیئرمین یا نامزد عہدوں کا حوالہ دے کر پوری برادری کو مطمئن نہیں کیا جاسکتا۔
محمد علی شبیر کو کابینہ میں شامل کرنے کے سوال پر مولانا جعفر پاشا نے کسی مخصوص نام پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت کا پالیسی معاملہ ہے، تاہم مزید مسلم چہروں کو نمائندگی دی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک سے چار مسلم قائدین کو مناسب نمائندگی دی جائے تو مسلم برادری حکومت سے مزید قریب ہوگی اور کانگریس کو بھی سیاسی فائدہ پہنچے گا۔
انہوں نے اس دلیل کو بھی مسترد کیا کہ کانگریس ٹکٹ پر مسلم امیدواروں کی کامیابی نہ ہونے کے باعث مسلمانوں کو نمائندگی نہیں دی جاسکتی۔ ان کے مطابق پارٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے امیدواروں کی کامیابی کے لئے سازگار حالات پیدا کرے۔ مکتوب میں یہ بھی کہا گیا کہ 2009 کے بعد سے کانگریس کا کوئی مسلم ایم ایل اے یا ایم پی تلنگانہ سے منتخب نہیں ہوا، جس کے پیش نظر امیدواروں کے انتخاب، ٹکٹوں کی تقسیم، تنظیمی مضبوطی اور قیادت سازی پر خصوصی توجہ دی جانی چاہئے۔
مولانا جعفر پاشا نے کہا کہ موجودہ سیاسی ماحول میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ تقسیم اور نفرت کے باعث مخلوط آبادی والے حلقوں میں مسلم امیدواروں کی کامیابی مشکل ہوگئی ہے۔ ایسے حالات میں کانگریس جیسی سیکولر اور قومی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایم ایل سی، راجیہ سبھا اور دیگر نامزد عہدوں کے ذریعے مسلم نمائندگی کو یقینی بنائیں۔
مکتوب میں تلنگانہ کا موازنہ دیگر کانگریس زیر اقتدار ریاستوں سے بھی کیا گیا۔ کرناٹک میں جہاں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 12.9 فیصد ہے، وہاں دو مسلم وزراء، اسپیکر کا عہدہ اور بنگلورو ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی چیئرمین شپ مسلمانوں کے پاس ہے۔ اسی طرح منصور علی خان کو راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا گیا۔ کیرالا میں جہاں مسلمانوں کی آبادی 26.56 فیصد ہے، کانگریس کی قیادت والے یو ڈی ایف اتحاد میں مسلم برادری کو نمایاں نمائندگی حاصل ہے۔
مولانا جعفر پاشا نے کہا کہ مسلمان بارہا حکومت سے کہہ چکے ہیں کہ صرف وعدوں پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعہ اپنے عزم کا ثبوت دیا جائے۔ اگر صورتحال میں تبدیلی نہ آئی تو مسلم برادری کانگریس کے ساتھ اپنے سیاسی تعلقات کے مستقبل پر غور کرنے پر مجبور ہوگی۔
مکتوب میں کہا گیا کہ مسلم ووٹ حاصل کرنے کے وقت آبادی کے تناسب کا ذکر نہیں کیا جاتا لیکن جب ٹکٹوں، نامزدگیوں، کابینہ میں شمولیت یا اقتدار میں حصہ داری کی بات آتی ہے تو آبادی کے تناسب اور سیاسی مجبوریوں کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کو محض ووٹ بینک کے طور پر نہیں بلکہ حکمرانی، قانون سازی اور فیصلہ سازی میں برابر کے شراکت دار کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہئے۔
راہول گاندھی کے نعرے ’’جتنی آبادی اتنا حق‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے مسلم تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ تلنگانہ میں مسلمانوں کو کابینہ، ایم ایل سی نامزدگیوں، راجیہ سبھا نشستوں اور دیگر نامزد عہدوں میں ان کی آبادی کے تناسب سے زیادہ نمائندگی دی جائے۔ مولانا جعفر پاشا نے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے یہ بھی اپیل کی کہ اختیارات اور ذمہ داریوں کو چند افراد تک محدود رکھنے کے بجائے وسیع پیمانے پر تقسیم کیا جائے تاکہ حکومت اور عوام دونوں کو فائدہ پہنچے۔
پریس کانفرنس کے دوران مولانا جعفر پاشا نے مسلمانوں سے خصوصی نظرثانی فہرست رائے دہندگان (SIR) عمل کے سلسلے میں بھی مکمل بیداری اور تیاری اختیار کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ بوتھ لیول افسران (BLOs) گھر گھر جاکر معلومات جمع کریں گے، اس لیے عوام آخری وقت کا انتظار نہ کریں بلکہ درکار دستاویزات اور معلومات پہلے سے تیار رکھیں۔
انہوں نے کہا کہ شہری معلوم کریں کہ کون سی دستاویزات درکار ہوسکتی ہیں، کون سی معلومات طلب کی جاسکتی ہیں اور ان کا اندراج کس طرح درست طریقہ سے کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کی غفلت مستقبل میں شہریت سمیت دیگر معاملات میں پیچیدگیاں پیدا کرسکتی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اہل خانہ، رشتہ داروں، پڑوسیوں اور مقامی آبادی کی رہنمائی کرتے ہوئے دستاویزی عمل کو مکمل کرنے میں تعاون کریں۔



