بی جے پی رکن پارلیمنٹ کنگنا رناوت کا متنازعہ بیان، "میں اب ایک بیدار ہندو ہوں”
نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اور اداکارہ کنگنا رناوت نے پیر کے روز اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے کئی متنازعہ تبصرے کئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اب خود کو ایک "بیدار ہندو” مانتی ہیں اور ان کی سوچ میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔
ویڈیو میں کنگنا نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ جانے کی تیاری میں تھیں، لیکن اس سے پہلے اپنا احساس عوام کے ساتھ شیئر کرنا ضروری سمجھا۔ انہوں نے فلم انڈسٹری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی بہت سی ہندو خواتین سے ملاقات ہوتی رہی ہے، لیکن ان میں سے اکثر کو سیاست یا مذہبی معاملات میں زیادہ دلچسپی یا آگاہی نہیں ہوتی تھی اور وہ خود کو غیر جانبدار رکھتی تھیں۔
کنگنا نے دعویٰ کیا کہ بعض ہندو خواتین اسلام پسندوں کے رابطہ میں آنے کے بعد بائیں بازو کی سوچ اختیار کر لیتی ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی برائی نہیں، کیونکہ آئین ہر شہری کو اپنی پسند کا مذہب یا نظریہ اپنانے کی آزادی دیتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ پہلے خود بھی ایک غیر جانبدار ہندو تھیں، لیکن اب ان کی سوچ بدل چکی ہے اور وہ خود کو بی جے پی اور آر ایس ایس کی فکر سے متاثر ایک "بیدار ہندو” قرار دیتی ہیں۔ کنگنا کا کہنا تھا کہ بعض لوگ ان سے پوچھتے ہیں کہ وہ سنگھ پریوار میں کب شامل ہوئیں، مگر ان کے مطابق یہ ان کی ذاتی نظریاتی بیداری ہے۔
کنگنا رناوت نے کہا کہ اگر دوسرے افراد اپنے نظریات تبدیل کر سکتے ہیں تو انہیں بھی اپنی سوچ بدلنے اور اپنی مذہبی و نظریاتی شناخت اختیار کرنے کا حق ہے۔ انہوں نے ہندو خواتین پر زور دیا کہ وہ اپنی نظریاتی شناخت کے لیے جدوجہد کریں اور اپنی فکری بیداری کو مضبوط بنائیں۔
کنگنا رناوت کا یہ ویڈیو پیغام سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے اور ان کے بیانات پر مختلف حلقوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔



