انٹر نیشنل

امریکہ کا ایک اور جھٹکا.. ایران کے تیل پر دوبارہ پابندیاں

نئی دہلی: مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث دنیا توانائی کے بحران میں پھنس گئی ہے۔ اس تناظر میں ایران کے تیل پر مزید پابندیاں عائد کرتے ہوئے امریکہ نے ایک اہم فیصلہ لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق

 

تہران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ امریکی وزیر فینانس نے چہارشنبہ کے دن ان پابندیوں کا اعلان کیا۔یاد رہے کہ ایران اور روس کے تیل کی خریداری سے متعلق پابندیوں میں امریکہ نے حال ہی میں کچھ نرمی دی تھی

 

لیکن اب اس نرمی کو مزید بڑھانے سے انکار کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ایران کے تیل کی برآمدات سے وابستہ کئی افراد، تیل کمپنیوں اور جہازوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں جیسا کہ امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے

 

غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول نے بتایا۔یہ بھی بتایا گیا کہ پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیاں ایران کے سابق سپریم لیڈر کے سیاسی مشیر کے بیٹے محمد حسین شمخانی کی قیادت میں کام کر رہی تھیں۔ فروری میں امریکہ

 

اور اسرائیل کے حملوں میں علی خامنہ ای کے ایک مشیر ہلاک ہو گئے تھے۔مزید یہ کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی جہازوں کی آمد و رفت پر بھی امریکہ کی جانب سے پابندیاں لگائی جا رہی ہیں، جس سے ایران پر معاشی دباؤ

 

مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ اسی تناظر میں ایران کے تیل پر مزید پابندیاں عائد کرنا قابلِ توجہ ہے۔اس کے علاوہ اسکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا کہ اگر چینی بینک ایران کے مالی لین دین میں مدد کرتے ہوئے پائے گئے

 

تو ان پر بھی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button