جنرل نیوز

اردو میڈیا: خدمات، چیلنجز اور ناقدین کی حقیقت

تحریر صحافی خضر احمد یافعی

عادل آباد۔ 17/اپریل(اردو لیکس)آج کے دور میں جہاں ہر شخص سوشل میڈیا کے ذریعے خود کو “عقلمند” ثابت کرنے میں لگا ہوا ہے، وہیں حقیقی صحافت، خاص طور پر اردو میڈیا کو، مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ وہ لوگ بھی اردو میڈیا پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں جنہیں خود اردو اخبار خرید کر پڑھنے کی بھی عادت نہیں۔

 

اردو صحافت کی تاریخ قربانیوں، جدوجہد اور عوامی خدمت سے بھری ہوئی ہے۔ یہ وہ پلیٹ فارم ہے جس نے ہمیشہ کمزور، مظلوم اور نظر انداز طبقات کی آواز بننے کی کوشش کی۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج اسی میڈیا کو سب سے زیادہ تنقید اور بے قدری کا سامنا ہے۔۔سوال یہ ہے کہ آخر کب تک اردو میڈیا کو اس طرح نظر انداز کیا جاتا رہے گا؟ جو لوگ خود اپنے دائرہ کار میں کوئی خاص کارکردگی نہیں رکھتے، وہی اکثر میڈیا نمائندوں پر انگلی اٹھاتے نظر آتے ہیں

 

۔ ایسے افراد نہ صرف حقیقت سے ناواقف ہوتے ہیں بلکہ وقتی مفادات یا ذاتی ایجنڈوں کے تحت صحافت کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آج کا ماحول اس قدر بدل چکا ہے کہ بغیر مفاد کے کوئی کام کرنے کا تصور ہی کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ کچھ عناصر وقتی فائدے یا سیاسی وابستگی کے بدلے اپنی آواز بیچ دیتے ہیں، جبکہ صحافی اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اکثر بدنامی، دباؤ اور خطرات کا سامنا کرتے ہیں

 

۔ یہ ایک المیہ ہے کہ جن کے ہاتھ میں سچ ہوتا ہے، انہی کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا جاتا ہے۔۔سوشل میڈیا نے جہاں معلومات کی ترسیل کو آسان بنایا ہے، وہیں “سوشل میڈیا یونیورسٹی” نے ہر شخص کو خود ساختہ دانشور بھی بنا دیا ہے۔ بغیر تحقیق اور حقائق کے تبصرے کرنا عام ہو چکا ہے۔ ایسے میں حقیقی صحافیوں کی محنت، تحقیق اور ذمہ داری کو نظر انداز کرنا ناانصافی کے مترادف ہے

 

۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو لوگ صحافیوں پر تنقید کرتے ہیں، وہ کبھی ان کی خدمات کو سمجھنے یا ان کی خیریت دریافت کرنے کی زحمت تک نہیں کرتے۔ انہیں نہ میدانِ عمل کا اندازہ ہوتا ہے اور نہ ہی ان مشکلات کا جن سے گزر کر ایک خبر عوام تک پہنچتی ہے۔

 

عوام سب کچھ دیکھ رہی ہے اور جانتی ہے کہ کون سچ کے ساتھ کھڑا ہے اور کون صرف وقتی فائدے کے لئے آواز بلند کر رہا ہے۔ وقت ہمیشہ سچ کو سامنے لاتا ہے، اور یہی سچ اردو میڈیا کی اصل طاقت ہے۔۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو میڈیا کی قدر کی جائے، اس کی حوصلہ افزائی کی جائے اور غیر ضروری تنقید کے بجائے تعمیری سوچ کو فروغ دیا جائے۔ کیونکہ ایک مضبوط اور باوقار میڈیا ہی معاشرے کی صحیح رہنمائی کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button