اناو عصمت ریزی کیس۔ بی جے پی کے سابق لیڈر کو سپریم کا دھکہ

نئی دہلی: ریاست اترپردیش اناو عصمت ریزی کیس میں عمر قید کی سزا پانے والے بی جے پی سے نکالے گئے لیڈر کلدیپ سنگھ سیگر کو و سپریم کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ کے اُس فیصلے کو منسوخ
کر دیا ہے جس میں پہلے سینگر کی جیل سزا پر روک لگا دی گئی تھی۔ ساتھ ہی عدالتِ عظمیٰ نے ہائی کورٹ کو ہدایت دی کہ وہ اس درخواست پر دوبارہ سماعت کرے۔سی بی آئی کی جانب سے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے
والی عرضی پر چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ مکھرجی پر مشتمل بنچ نے جمعہ کو دوبارہ سماعت کی۔ اس دوران سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کو ہدایت دی کہ سینگر کی سزا اور عمر قید کے خلاف دائر اپیل کو دو ماہ کے
اندر نمٹایا جائے۔ اگر ہائی کورٹ اس مدت میں سزا کے خلاف اپیل پر فیصلہ نہ کر سکے، تو کم از کم عمر قید کی سزا معطل کرنے کی درخواست پر حکم جاری کرے۔سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے کی میرٹ پر کوئی رائے نہیں
دے رہی اور ہائی کورٹ اس کیس کی نئے سرے سے سماعت کر سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے ہائی کورٹ سے یہ پہلو بھی دوبارہ جانچنے کو کہا کہ آیا پوکسو کیس کا سامنا کرنے والے کسی ایم ایل اے کو سرکاری ملازم تصور کیا جا سکتا
ہے یا نہیں۔سال 2017 میں اتر پردیش کے اُناؤ علاقے کی ایک نابالغ لڑکی کو اغوا کرکے اس کے ساتھ زیادتی کرنے کے الزامات میں کلدیپ سنگھ سیگر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے سماعت کے بعد سینگر کو قصوروار قرار
دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد میں سپریم کورٹ کے حکم پر یہ مقدمہ اتر پردیش کی ٹرائل کورٹ سے دہلی ہائی کورٹ منتقل کر دیا گیا۔گزشتہ سال کے آخر میں دہلی ہائی کورٹ نے سماعت کے بعد سیگر کی سزا پر روک
لگا دی تھی۔ اس فیصلے کو متاثرہ لڑکی کے وکلا اور سی بی آئی نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے پہلے ہی سینگر کی رہائی پر عبوری روک لگا دی تھی، اور
اب تازہ فیصلے میں دہلی ہائی کورٹ کا حکم مکمل طور پر منسوخ کر دیا ہے۔



