پٹرول کی قیمت میں 10 روپے تک ہوسکتا ہے اضافہ؟

نئی دہلی: ملک بھر میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ آئیل کمپنیوں نے جمعہ کے روز فی لیٹر پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اوسطاً 3 روپے اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم ماہرینِ اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں
قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ابھی کم نہیں ہوئی جس کے باعث آنے والے دنوں میں ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایمکے گلوبل فینانس سرویس
کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کمپنیوں کو موجودہ مالی نقصانات سے نکالنے کے لیے 3 روپے کا اضافہ کافی نہیں ہوگا بلکہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں فی لیٹر 10 روپے تک بڑھ سکتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ اضافہ ایک ساتھ یا پھر 2 سے 3
ہفتوں میں مرحلہ وار کیا جا سکتا ہے۔مغربی ایشیا میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور مسلسل بحرانوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی سپلائی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ قیمتوں میں اضافے کو قابو میں رکھنے کے لیے
مرکزی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر عائد ایکسائز ڈیوٹی کی وصولی کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری آئیل کمپنیوں نے بھی اپنے منافع میں کمی کر کے اضافی اخراجات خود برداشت کیے۔
ان مشکل حالات کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں 3 روپے اضافہ ناگزیر ہو گیا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معمولی اضافہ صرف کمپنیوں کے روزانہ کے نقصانات کو کچھ حد تک کم کر سکا ہے مکمل طور پر ختم نہیں کر پایا۔
دوسری جانب ملک کی بڑی ڈیری کمپنیاں امول اور مدر ڈیری نے دودھ کی قیمت میں فی لیٹر 2 روپے اضافہ کر دیا ہے، جس سے صارفین کے گھریلو بجٹ پر مزید بوجھ پڑے گا۔ اس کے نتیجے میں علاقائی ڈیری کمپنیاں بھی قیمتیں بڑھا
سکتی ہیں۔ماہرینِ اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ ایندھن، ایل پی جی گیس اور دودھ کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے آنے والے مہینوں میں خوردہ مہنگائی کی شرح میں بھی تقریباً 0.42 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔




