ریونت ریڈی آر ایس ایس کے چیف منسٹر ۔بی جے پی کے ساتھ مل کر کام کرنے کا الزام : کویتا
ریونت ریڈی آر ایس ایس کے وزیراعلیٰ۔بی جے پی کے ساتھ مل کر کام کرنے کا الزام
*بنڈی سنجے کو مرکزی وزیر کے عہدہ سے ہٹانے کا مطالبہ۔ وزیراعظم کو مکتوب تحریر کرنے کا اظہار*
*عوامی خدمت کے مقصد سے نئی سیاسی جماعت کا قیام۔آئندہ انتخابات میں ٹی آر ایس اقتدار حاصل کرے گی*
*سماجی انصاف کی پرزور وکالت۔ وے ٹو نیوز کانکلیو سے کلواکنٹلہ کویتا کا خطاب*
حیدرآباد میں وے ٹو نیوز کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے تلنگانہ رکشنا سینا کی سربراہ کلواکنٹلہ کویتا نے ریاستی و قومی سیاست پر کھل کر اظہار خیال کیا اور حکومت پر شدید تنقید کی۔انہوں نے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کو "آر ایس ایس کا وزیر اعلیٰ” قرار دیتے ہوئے الزام عائدکیا کہ وہ بی جے پی کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے تلنگانہ کو اس کا جائز حق اور پروجیکٹس نہیں مل رہے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی رہنما بنڈی سنجے کو مرکزی وزیر کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا۔
کویتا نے واضح کیا کہ انہیں تحریک تلنگانہ کے قائد کے سی آر سے کوئی اختلاف نہیں بلکہ بطور وزیراعلیٰ اور بی آر ایس سربراہ ان کے رویہ سے اختلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اندر وہ ہمیشہ مختلف رائے پیش کرتی تھیں، لیکن ان کی اندرونی باتوں کو باہر لا کر انہیں الگ کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے بعد انہوں نے عوامی خدمت کے لئے نئی سیاسی جماعت قائم کی۔ انہوں نے کہا کہ زندگی کے تلخ تجربات اور مشکل حالات نے ان کی سوچ و فکرکو بدلا ہے اور اب وہ ریاست میں حقیقی اور معیاری تبدیلی لانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ آنے والے انتخابات میں تلنگانہ رکشنا سینا اقتدار حاصل کرے گی اور تمام حلقوں سے مقابلہ کرے گی۔ریاستی مسائل پر بات کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ نہ موجودہ حکومت اور نہ ہی سابقہ حکومت کسانوں کے لئے مؤثر اقدامات کر سکی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی نوجوانوں کو 2 لاکھ سے 20 کروڑ روپئے تک قرض فراہم کرے گی تاکہ وہ خود روزگار پیدا کر سکیں۔ آبی منصوبوں پر تنقید کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ تلنگانہ میں وسائل کا صحیح استعمال نہیں ہوا، بڑے پروجیکٹس تاخیر کا شکار ہیں اور لاگت میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے،
جس کے باعث کسانوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔بنڈی سنجے کے بیٹے سے متعلق معاملے پر انہوں نے کہا کہ سنگین الزامات کے باوجود کارروائی نہیں کی جا رہی ہے جس سے حکومت کا رویہ مشکوک نظر آتا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اس معاملہ میں وزیراعظم کو مکتوب لکھیں گی اور مکمل تحقیقات تک بنڈی سنجے کو عہدہ سے ہٹانے کا مطالبہ کریں گی۔
کویتا نے خواتین اور سماجی انصاف پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیاست میں خواتین کی شمولیت ضروری ہے اور سوشل جسٹس کا دائرہ تمام محروم طبقات تک وسیع ہونا چاہئے جن میں معذور افراد، سابق فوجی اور بزرگ شہری بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ وہ تلنگانہ کے عوام کے لئے ایسا کام کریں کہ تاریخ میں ان کا نام ایک مثبت اور یادگار رہنما کے طور پر درج ہو۔



