تلنگانہ

پوکسو کیس میں بنڈی سائی بھگیرتھ کو بڑا جھٹکا – ہائی کورٹ نے عبوری ضمانت دینے سے انکار کر دیا ؛ رات دیر تک سماعت

حیدراباد – تلنگانہ ہائی کورٹ نے جمعہ کو بنڈی سائی بھگیرتھ کو پوکسو ایکٹ کے تحت درج کیس میں گرفتاری سے عبوری ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔ رات دیر تک جاری سماعت کے بعد جسٹس ٹی مادھوی دیوی پر مشتمل تعطیلاتی بنچ نے بھگیرتھ کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

 

تاہم عدالت نے فیصلہ آنے تک بھگیرتھ کو گرفتاری سے بچانے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ لڑکی کے بیان کا جائزہ لینے کے بعد اس مرحلے پر کوئی عبوری راحت دینا مناسب نہیں ہوگا۔

 

عدالت میں سماعت رات تقریباً 9 بجے شروع ہوئی اور ساڑھے 11 بجے تک جاری رہی۔ جسٹس مادھوی دیوی نے کہا کہ وہ آج ہی حکم جاری کرنا چاہتی تھیں، لیکن وکلاء کی تفصیلی دلائل کی وجہ سے مزید غور کی ضرورت ہے۔

 

بھگیرتھ کے خلاف 8 مئی کو بھارتیہ نیائے سنہتا اور پوکسو ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ بعد ازاں متاثرہ لڑکی کا مجسٹریٹ کے سامنے بیان ریکارڈ ہونے کے بعد اس پر سنگین جنسی حملے کی دفعات بھی شامل کی گئیں۔

 

سرکاری وکیل کے مطابق بھگیرتھ اور متاثرہ لڑکی کے درمیان جون 2025 سے تعلقات تھے اور اکتوبر سے دسمبر 2025 کے درمیان کم از کم چار مرتبہ جنسی زیادتی کی گئی۔

 

بھگیرتھ کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ ایس نرنجن ریڈی نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کے درمیان تعلقات رضامندی پر مبنی تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ رشتہ ختم ہونے کے بعد لڑکی ذہنی دباؤ کا شکار ہوئی اور چار ماہ بعد شکایت درج کرائی گئی۔

 

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ابتدائی شکایت میں جنسی زیادتی کا ذکر نہیں تھا اور بعد میں الزامات میں شدت پیدا کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک جھوٹا مقدمہ ہے اور ان کے مؤکل کو پھنسانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

 

دوسری جانب سرکاری وکیل اور متاثرہ لڑکی کی والدہ کے وکیل نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ لڑکی نابالغ ہے اور بھگیرتھ نے شادی کا وعدہ کر کے اس کا استحصال کیا۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ متاثرہ لڑکی نے بیان دیا ہے کہ ایک موقع پر اسے نشہ آور حالت میں جسمانی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

 

متاثرہ فریق کے وکیل نے یہ بھی الزام لگایا کہ مقدمہ واپس لینے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا تھا اور اگر بھگیرتھ کو راحت دی گئی تو شواہد پر اثر انداز ہونے کا خدشہ ہے۔

 

سماعت کے دوران عدالت نے سوشل میڈیا پر کیس اور جج کے خلاف چلائی جا رہی مہم پر بھی سخت برہمی ظاہر کی۔ جسٹس مادھوی دیوی نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ان کے خلاف توہین آمیز مہم چلائی جا رہی ہے، جو انتہائی تکلیف دہ ہے۔

 

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حیدرآباد پولیس کو اس معاملے سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button