خبر پہ شوشہ “گائے کا برتھ سرٹیفکیٹ”

کے این واصف
مغربی بنگال سے خبر آئی کہ بی جے پی رکن اسمبلی ریکھا پاترا نے گائیں لے جانے والی گاڑی روک کر اُن کے برتھ سرٹیفکیٹس طلب کئے۔
قومی پارٹی کی ایم ایل اے ریکھا پاترا کو کوئی یہ بتائے کہ ملک کے کڑوروں افراد آج بھی خود اپنا برتھ سرٹیفکیٹ پیش کرنے کے موقف میں نہیں ہیں تو بھلا گائے پالنے اور فروخت کرنے والے کسان گائے کا صداقت نامہ پیدائش کہاں سے لائے گا۔
ریکھاپاترا نے پچھلے ماہ اپنی پڑوسی ریاست اوڈیشہ کا واقع تو ضرور پڑھا ہوگا کہ ایک آدیواسی جب “گرامین بینک” میں اپنی مری چکی بہن کا بینک مین جمع پیشہ حاصل کرنے گیا تو اس سے Death سرٹیفکیٹ مانگا گیا۔ اس کے پاس بینک کی یہ لازمی شرط پوری کرنے کا یہ دستاویز نہیں تھا تو اس نے
تین ماہ قبل گاؤں میں دفنائی گئی اپنی بہن کی لاش قبر سے نکالی اور کاندھے پر لاد کر بینک میں لاکر ڈالدی اور کہا میرے پاس یہی ایک ثبوت ہے۔
جس ملک میں لوگ اپنے ہم رشتہ دار کی موت کا صداقت نامہ نہیں پیش کرسکتے وہاں گائیوں کے برتھ سرٹیفکیٹ کا مطالبہ ۔۔۔۔۔



