حرم مکہ کل اور آج – جب مسجدالحرام میں روشنی کے لیے تیل کے چراغ جلتے تھے


کے این واصف
حرم مکی چکاچوند روشنیوں جس پر آج رات کو دن کا گماں ہوتاہے یہاں کبھی تیل کے رویتی چراغ جلتے تھے۔ حرم مکی روشنی کے اس نظام نے درجہ بدرجہ ترقی کی ہے۔ مسجد الحرام میں روشنی کے نظام میں شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمان آل سعود کے دور میں تیز رفتار ترقی دیکھی گئی۔ ایک ایسا تاریخی مرحلہ جس میں روایتی تیل کے چراغوں سے برقی نظام کی جانب منتقلی کا آغاز ہوا۔
سعودی خبررساں ایجنسی “ایس پی اے” کے مطابق اس دور کے آغاز میں مسجد الحرام میں روشنی کا زیادہ تر انتظام صحن مطاف میں ہوتا تھا جس کے لیے تیل کے چراغ اور شمعیں استعمال کی جاتی تھیں۔دھاتی ستون صحن میں نصب تھے جن کے اوپر کھجور کے درختوں کی شکل میں خوبصورت تانبے کے ڈیزائن بنائے گئے تھے اور ان کی شاخوں سے قندیلیں لٹکی ہوتی تھیں۔
مسجد الحرام کے برآمدوں کے ستونوں کے درمیان لوہے کی سلاخیں نصب کی جاتی تھیں تاکہ ان پر چراغوں کو لٹکایا جا سکے۔ اس وقت ان ستونوں پر 1422 قندیلیں لگائی جاتی تھیں جبکہ میناروں میں استعمال ہونے والی روشنی اس کے علاوہ تھی۔ چار مقامات پر پیتل کے شمع دانوں اور قندیلوں سے روشنی کی جاتی تھی جبکہ خانہ کعبہ کے دروازے کو سفید دھات کے ایک شمع دان سے روشن کیا جاتا تھا۔
مملکت کے اتحاد سے قبل مسجد الحرم میں انتہائی محدود پیمانے پر بجلی کے استعمال کا آغاز ہو چکا تھا۔ چند برقی قمقموں کے ذریعے مطاف کے گرد محدود برقی روشنی فراہم کی جاتی تھی۔ اس مقصد کے لیے تقریباً 3 کلو واٹ پاور والا چھوٹا جنریٹر استعمال ہوتا تھا۔ شاہ عبدالعزیز کے دور میں جب مسجد الحرام کی منظم دیکھ بھال کا آغاز ہوا تو سب سے پہلے وہاں روشنی کے نظام کو اہمت دی گئی۔ شعبان 1347 ہجری میں شاہ عبدالعزیز کے حکم پر تمام چراغ تبدیل کیے گئے اور برقی قمقموں کی تعداد 300 سے بڑھا کر ایک ہزار کر دی گئی تاکہ مطاف اور برآمدوں کو مکمل طورپر روشن کیا جا سکے۔ اسی برس رمضان المبارک میں مسجد الحرام کو روشن کرنے کا انتظام مکمل کیا گیا۔
شاہ عبدالعزیز نے سال ہجری 1349 میں مسجد الحرام میں روشنی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے 13 ہارس پاور کا نیا برقی جنریٹر منگوانے کا حکم صادر کیا جس سے روشنی کے معیار میں مزید بہتری آئی۔ اسی دوران مسجد الحرام کی تزئین و آرائش کے لیے بھی کئی تعمیراتی کام بھی کیے گئے۔ترقی کا یہ سفر جاری رہا اور سال ہجری 1355 میں روزنامہ “ام القریٰ” کی رپورٹ کے مطابق شاہ عبدالعزیز نے کروسلی کمپنی کا تیار کردہ ایک جدید برقی جنریٹر بطور تحفہ فراہم کیا۔ مسجد الحرام کے برآمدوں میں سنگِ مرمر کے ستون تعمیر کرنے کی ہدایت دی گئی تاکہ روشنی کے نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
سال ہجری 1369 میں مکہ مکرمہ میں بجلی کمپنی کے قیام کا فرمان جاری ہوا۔ اس اقدام سے محلوں میں موجود مختلف چھوٹے جنریٹروں پر انحصار ختم ہونے لگا۔ بعدازاں 1373 ہجری کے آغاز میں تنعیم کے مقام پر پہلے مرکزی بجلی گھر کا افتتاح کیا گیا۔شاہ عبدالعزیز فاؤنڈیشن نے تصاویر اور تاریخی حوالوں کے ذریعے ان تمام ادوار کو محفوظ کیا ہے
جن میں قندیلوں اور چراغوں سے برقی قمقموں تک کا سفر شامل ہے۔ بقعئہ نور بناہوا آج کے حرم مکی کا کوئی گوشہ ایسا نہین ہوتا جو منوّر نہیں رہتا۔



