مضامین

سستے حصے اور فریب کا بازار۔قربانی کے حصوں کے نام پر دھوکہ اور ہماری ذمہ داری

از قلم: مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی

  جامعہ عربیہ توپران ضلع میدک تلنگانہ 

Mufti

 

قربانی اسلام کے اُن عظیم الشان شعائر میں سے ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے امتِ مسلمہ کے لیے جذبۂ ایثار، عبدیت، اطاعت، وفاداری اور تقویٰ کی عملی علامت بنایا ہے۔ یہ عبادت محض جانور ذبح کرنے یا گوشت تقسیم کرنے کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی روحانی کیفیت اور ایمانی وارفتگی کا مظہر ہے جس کے ذریعے بندۂ مؤمن اپنے ربِّ کریم کے حضور اپنی محبت، سپردگی اور بندگی کا عملی نمونہ پیش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید نے قربانی کو شعائرِ اسلام میں شمار کیا اور اس کی تعظیم کو دلوں کے تقویٰ کی علامت قرار دیا۔ لیکن افسوس! دور حاضر کی کسل پرستانہ ذہنیت، تجارتی حرص، فریبِ ارزانی، اور سستی کی اندھی دوڑ نے اس عظیم عبادت کی روح کو شدید مجروح کردیا ہے۔

 

آج قربانی کے ایام قریب آتے ہی مختلف مقامات، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، واٹس ایپ گروپس، اشتہارات اور نامعلوم تنظیموں کی طرف سے “سب سے سستی قربانی”، “انتہائی کم قیمت میں حصہ”، “مارکیٹ سے کم ریٹ”، “خصوصی رعایتی حصہ” اور “ارزاں قربانی اسکیم” جیسے دل فریب اور پُرکشش نعرے سنائی دیتے ہیں۔ بظاہر یہ اعلانات عوام کے لیے سہولت اور آسانی کے عنوان سے پیش کیے جاتے ہیں، مگر حقیقت میں ان میں سے اکثر مقامات فریب بددیانتی، شرعی بے احتیاطی، خیانت کے اڈے بن چکے ہوتے ہیں۔ لوگ محض چند ہزار روپے کی بچت کے لالچ میں بغیر تحقیق، بغیر اطمینان، بغیر جانور دیکھے

 

اور بغیر شرعی معلومات حاصل کیے اپنی رقوم جمع کرا دیتے ہیں، اور بعد میں جب قربانی کا وقت آتا ہے تو حقیقتِ حال ان کے سامنے ایک روح فرسا المیہ بن کر ظاہر ہوتی ہے۔ کہیں جانور بیمار نکلتے ہیں، کہیں لاغر اور کمزور جانور قربان کیے جاتے ہیں، کہیں جانور کی عمر شرعی معیار کے مطابق پوری نہیں ہوتی، کہیں وزن میں دھوکہ دیا جاتا ہے، کہیں حصوں کی تعداد سات سے بڑھا دی جاتی ہے، کہیں گوشت کی تقسیم میں خیانت کی جاتی ہے، کہیں ذبح شرعی اصولوں کے مطابق انجام نہیں پاتا، اور کہیں قصاب و منتظمین میں دینی مزاج رکھنے والے افراد سرے سے موجود ہی نہیں ہوتے۔ یہ سب امور صرف انتظامی خرابیاں نہیں بلکہ شعائرِ اسلام کی صریح بے حرمتی اور عبادت کی روح کی پامالی ہیں۔

 

اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ بعض لوگ ان تمام خرابیوں کے باوجود صرف اس وجہ سے خاموش رہتے ہیں کہ انہیں “حصہ سستا” مل گیا تھا۔ گویا عبادت کی صحت، دیانت، تقویٰ اور اللہ تعالیٰ کی رضا سے زیادہ اہم چیز چند ہزار روپے کی بچت بن گئی ہے۔ یہی وہ فکری انحطاط اور روحانی زوال ہے جس نے امت کو عبادات کی اصل روح سے دور کردیا ہے۔ اگر یہی طرزِ فکر باقی رہا تو آگے چل کر لوگ قربانی کو محض گوشت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھیں گی، نہ کہ ایک عظیم دینی شعار۔ اس لیے ضروری ہے کہ امتِ مسلمہ اس خطرناک روش سے بیدار ہو، قربانی کو دوبارہ اُس کے حقیقی مقام پر لائے، اور اس عبادت کو تجارتی حرص اور فریب کاری کے بازار سے محفوظ کرے۔

 

قرآنِ مجید نے شعائرِ اسلام کی تعظیم کو دلوں کے تقویٰ کی علامت قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

﴿ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ﴾

“جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ میں سے ہے۔”

یہ آیتِ کریمہ اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ قربانی صرف ظاہری رسم نہیں بلکہ ایک عظیم روحانی عبادت ہے۔ افسوس کہ آج بعض لوگوں نے اس مقدس عبادت کو تجارت، اور منفعت اندوزی کا ذریعہ بنالیا ہے۔ غیر معمولی سستے حصوں کے نام پر عوام سے رقوم جمع کی جاتی ہیں، مگر حقیقت میں نہ جانوروں کی صحت کا خیال رکھا جاتا ہے، نہ شرعی تقاضوں کی رعایت، نہ دیانت و امانت کی پاسداری، اور نہ ہی عبادت کی روح کا احترام۔ گزشتہ برسوں میں بے شمار ایسے واقعات سامنے آئے کہ لوگوں نے اپنی محنت کی کمائی ایسے افراد کے حوالے کردی

 

جنہوں نے یا تو ناقص قربانی کی، یا سرے سے عوام کو دھوکہ دے کر روپوش ہوگئے۔ ہمارے شہر حیدرآباد میں گزشتہ سال اس طرح کا واقعہ پیشکش آیالوگوں کو کروڑوں کا دھوکہ دے کر لوگ فرار ہو گئے اور اب تک تلاش جاری ہےیہ طرزِ عمل نہ صرف اخلاقی پستی بلکہ دینی بے حسی کی بھی بدترین مثال ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا»

“جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔”

یہ حدیثِ مبارکہ اُن تمام لوگوں کے لیے سخت وعید ہے جو عبادت کے نام پر امت کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔ قربانی جیسی عظیم عبادت میں خیانت دراصل شعائرِ اسلام کی بے حرمتی ہے۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ قربانی کے معاملے میں غیر معمولی احتیاط کرے، صرف اشتہارات اور دعووں پر یقین نہ کرے بلکہ اعتماد، دیانت، شرعی معیار اور اطمینانِ قلب کو ترجیح دے۔ کیونکہ عبادت میں اصل چیز سستی نہیں بلکہ قبولیت ہے، اور قبولیت اخلاص، تقویٰ اور صحیح طریقۂ عمل سے حاصل ہوتی ہے۔

 

بعض مقامات پر بیمار اور عیب دار جانوروں کو خوبصورت بناکر عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ جانور بظاہر فربہ اور صحت مند دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں وہ اندرونی بیماریوں، کمزوری یا شرعی عیوب کا شکار ہوتا ہے۔ کہیں لنگڑا جانور شامل کردیا جاتا ہے، کہیں کمزور اور ہڈیوں کا ڈھانچہ بنے ہوئے جانور کو قربانی کے قابل ظاہر کیا جاتا ہے، کہیں جانور کی آنکھ خراب ہوتی ہے، کہیں شدید بیماری کے باوجود اسے قربانی میں شامل کردیا جاتا ہے۔ حالانکہ شریعتِ مطہرہ نے قربانی کے جانور کے لیے صحت، سلامتی اور عیوب سے پاک ہونے کی واضح شرائط بیان فرمائی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ایسے جانوروں کی قربانی سے منع فرمایا ہے جو نمایاں عیب رکھتے ہوں۔ مگر سستے حصوں کے فریب میں مبتلا لوگ نہ جانور دیکھتے ہیں، نہ اس کی کیفیت معلوم کرتے ہیں، نہ یہ تحقیق کرتے ہیں کہ جانور واقعی شرعی اعتبار سے درست بھی ہے یا نہیں۔ ان کی پوری توجہ صرف اس بات پر ہوتی ہے کہ “حصہ سستا مل گیا”۔ یہی وہ خطرناک ذہنیت ہے جو عبادت کی روح کو ختم کرتی جارہی ہے۔

 

قربانی میں اصل چیز جانور کی قیمت نہیں بلکہ عبادت کی صحت اور اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔ اگر جانور ہی ناقص ہو تو پھر قربانی کی حقیقت کہاں باقی رہ جاتی ہے؟ بعض اوقات جانوروں کو وقتی دوائیں، انجیکشن اور مصنوعی خوراک دے کر موٹا تازہ ظاہر کیا جاتا ہے تاکہ عوام دھوکے میں آجائیں۔ قربانی کے بعد جب گوشت کم نکلتا ہے یا جانور کے اندر بیماری ظاہر ہوتی ہے تو لوگ حیران رہ جاتے ہیں۔ یہ عمل صرف مالی دھوکہ نہیں بلکہ ایک مقدس عبادت کے ساتھ کھلا ہوا استہزاء ہے۔ شریعت نے قربانی کو پاکیزگی، حسنِ نیت اور بہترین چیز اللہ کے لیے پیش کرنے کے جذبے کے ساتھ جوڑا ہے، مگر سستی کی دوڑ نے اس تصور کو مسخ کردیا ہے۔

 

اسی طرح سستے حصوں کے بازار میں ایک سنگین خرابی یہ بھی پائی جاتی ہے کہ جانور کی عمر پوری نہیں ہوتی۔ شریعت نے قربانی کے جانور کے لیے مخصوص عمر مقرر فرمائی ہے، مگر بعض لوگ کم عمر جانوروں کو زیادہ عمر والا ظاہر کرکے عوام کو دھوکہ دیتے ہیں۔ دانت دیکھنے میں جعل سازی کی جاتی ہے، ظاہری بناوٹ کے ذریعے لوگوں کو مطمئن کیا جاتا ہے، اور عام مسلمان چونکہ ان مسائل سے ناواقف ہوتے ہیں اس لیے آسانی سے دھوکے کا شکار ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ اگر جانور شرعی عمر کو نہ پہنچا ہو تو قربانی درست ہی نہیں ہوتی۔ افسوس یہ ہے کہ بعض لوگ اس بنیادی مسئلے کو معمولی سمجھتے ہیں، گویا عبادت کی صحت سے زیادہ اہم چیز پیسوں کی بچت ہو۔ یہ طرزِ فکر انتہائی خطرناک اور روحانی اعتبار سے تباہ کن ہے۔ عبادت میں معمولی سی بے احتیاطی بھی انسان کو اجر و ثواب سے محروم کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اکابر اور اہلِ علم قربانی کے معاملے میں غیر معمولی احتیاط برتتے تھے۔ وہ جانور کی عمر، صحت، حالت اور شرعی حیثیت کی مکمل تحقیق کرتے تھے، کیونکہ ان کے نزدیک قربانی صرف ایک ظاہری رسم نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کی جانے والی عظیم عبادت تھی۔ بعض منتظمین زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے جان بوجھ کر کم عمر جانور شامل کرتے ہیں، کیونکہ وہ سستے مل جاتے ہیں۔ یہ عمل خیانت، دھوکہ دہی اور دینی بے حسی کی بدترین مثال ہے۔ اگر عبادت ہی مشکوک ہوجائے تو پھر ظاہری سستی کس کام کی؟

 

سستے حصوں کے فریب میں ایک اور نہایت سنگین خرابی وزن میں دھوکہ دہی بھی ہے۔ بعض مقامات پر عوام کو بڑے وزن اور زیادہ گوشت کے جھوٹے وعدے کیے جاتے ہیں، مگر قربانی کے بعد حقیقت بالکل مختلف نکلتی ہے۔ کہیں گوشت کم دیا جاتا ہے، کہیں ہڈیاں زیادہ شامل کردی جاتی ہیں، کہیں بہترین گوشت الگ کرکے فروخت کردیا جاتا ہے، اور کہیں حصے داروں کو ناقص گوشت تھما دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات لوگوں کو یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے حصے کا اصل وزن کتنا تھا۔ یہ سب اعمال خیانت، بددیانتی اور مسلمانوں کے حقوق تلف کرنے کے مترادف ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے معاملات میں دیانت اور امانت داری کی نہایت سخت تاکید فرمائی ہے۔ لیکن افسوس کہ آج بعض لوگوں نے قربانی جیسی عظیم عبادت کو بھی منفعت اندوزی اور تجارتی حرص کا ذریعہ بنالیا ہے۔ لوگ اللہ تعالیٰ کے نام پر جمع ہونے والی رقم کو بھی دیانت کے ساتھ استعمال نہیں کرتے۔یہی وجہ ہے کہ برکتیں ختم ہورہی ہیں اور عبادات کی روح کمزور پڑتی جارہی ہے۔ بعض جگہوں پر گوشت کی تقسیم میں اس قدر بے احتیاطی ہوتی ہے کہ حصے داروں کے درمیان جھگڑے پیدا ہوجاتے ہیں، دلوں میں بدگمانی جنم لیتی ہے، اور قربانی جیسی عبادت جو محبت، ایثار اور اخوت کا پیغام دیتی ہے، وہ تنازع اور ناراضگی کا سبب بن جاتی ہے۔ یہ سب اس لیے ہوتا ہے کہ ابتدا ہی سے نیت میں اخلاص کے بجائے نفع اور لالچ شامل ہوتا ہے۔

 

شرعی ذبح میں کوتاہی بھی سستے حصوں کے فتنہ کی ایک نہایت خطرناک صورت ہے۔ بعض جگہوں پر نہ تکبیر کا اہتمام ہوتا ہے، نہ قبلہ رخ کرنے کی فکر، نہ ذبح کے شرعی اصولوں کی رعایت، نہ جانور کے ساتھ نرمی اور رحمت کا معاملہ، اور نہ ہی ذبح کرنے والے افراد دینی مزاج رکھتے ہیں۔ بعض اوقات جلد بازی، بے احتیاطی اور نااہلی کی وجہ سے ذبح غلط انداز میں انجام پاتا ہے۔ کہیں ایک ہی وقت میں کئی جانوروں کو بے رحمی کے ساتھ گرایا جاتا ہے، کہیں چھریاں تیز نہیں ہوتیں، کہیں جانور کو اذیت دی جاتی ہے، اور کہیں دینی شعور سے خالی افراد صرف مزدوری کے جذبے کے تحت قربانی انجام دیتے ہیں۔ حالانکہ قربانی ایک عظیم عبادت ہے جس میں رحمت، ادب، خشوع اور شرعی آداب کی رعایت ضروری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ذبح میں بھی حسنِ سلوک اور نرمی کی تعلیم دی۔ مگر افسوس کہ سستی کی دوڑ نے عبادت کی روحانی عظمت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ بعض مقامات پر ذبح اتنی جلد بازی اور بے ترتیبی کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ انسان کے دل میں خوف پیدا ہوجاتا ہے کہ آیا قربانی صحیح طریقے سے ہوئی بھی ہے یا نہیں۔ کہیں اللہ کا نام لینا بھول جاتے ہیں، کہیں ایک جانور کے سامنے دوسرے جانور کو ذبح کیا جاتا ہے، کہیں خون اور گندگی کے درمیان انتہائی بے رحمانہ انداز اپنایا جاتا ہے۔ یہ سب چیزیں نہ صرف شرعی آداب کے خلاف ہیں بلکہ قربانی کی روحانی تاثیر کو بھی ختم کردیتی ہیں۔

 

*نام بڑے علماء کا اور کاروبار اپنا*

سستے حصے میں اتنے سستے کہ ایک بڑے جانور کے تمام حصوں کو جمع کر دیا جائے تو اتنی رقم میں ایک چھوٹا جانور بکرا اور مینڈھا بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا اس زمانے میں مثال کے طور پر 2ہز میں حصہ 1700 میں حصہ اور اس سے کم اور ساتھ میں بزرگوں کا نام اولیاء اللہ کا حوالہ دیا جاتا ہے حقیقت میں اپنی جیب گرم کرنا مقصود ہوتا ہے ایسے مکاروں سے اپنے آپ کو بچانے کی ضرورت ہے اگر آپ حساب کریں 1700 سے حصہ ہو تو جانور کتنے کا پڑے گا کیا اتنی رقم میں آج مینڈا یا بکرا آرہا ہے جب چھوٹا جانور ہی نہیں آ رہا ہے تو بڑا جانور کیسے حاصل کیا جا سکتا ہے

 

آج کل فریب کاری کا ایک نہایت خطرناک، روح فرسا اور دینی اعتبار سے تشویشناک انداز یہ بھی عام ہوگیا ہے کہ بعض لوگ اپنی قربانی کی اسکیموں کو معتبر اور قابلِ اعتماد ظاہر کرنے کے لیے علماء و اولیاءِ کرام کے مقدس ناموں کا سہارا لیتے ہیں۔ کہیں کہا جاتا ہے کہ “علماء و اولیاء کی نگرانی میں قربانی ہورہی ہے”، کہیں “بزرگانِ دین کی سرپرستی میں اجتماعی قربانی” کے پُرکشش نعرے لگائے جاتے ہیں، اور کہیں خانقاہوں، دینی شخصیات یا معروف مذہبی حلقوں کے نام استعمال کرکے عوام کے اعتماد اور مذہبی جذبات کو اپنی طرف مائل کیا جاتا ہے۔ سادہ لوح مسلمان جب یہ جملے سنتے ہیں تو فوراً مطمئن ہوجاتے ہیں کہ شاید یہاں واقعی دیانت، تقویٰ، خوفِ خدا اور شرعی احتیاط کا مکمل اہتمام ہوگا، مگر افسوس کہ اکثر اوقات حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔ بسا اوقات نہ وہاں کوئی حقیقی نگرانی موجود ہوتی ہے، نہ شرعی مسائل کی مکمل رعایت، نہ جانوروں کی درست جانچ، نہ ذبح کے آداب کا مکمل لحاظ، محض علماء و اولیاء کے ناموں کو استعمال کرکے عوام کے جذبات، عقیدت اور دینی اعتماد کو سرمایہ بنایا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ متوجہ ہوں اور زیادہ سے زیادہ رقم جمع کی جاسکے۔

 

اس سے بھی زیادہ افسوس ناک صورت یہ ہے کہ آج بہت سے لوگ اپنی قربانی دوسرے صوبوں، دور دراز علاقوں اور نامعلوم مقامات پر صرف سستی کاہلی کی وجہ سے کرواتے ہیں، جہاں سے انہیں صحیح صورتِ حال کی کوئی حقیقی اطلاع ہی نہیں مل سکتی۔ نہ جانور دیکھا جاتا ہے، نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ صحت مند تھا یا نہیں، نہ یہ پتہ چلتا ہے کہ ذبح شرعی طریقے سے ہوا یا نہیں، نہ یہ خبر ہوتی ہے کہ حصوں کی تعداد پوری تھی یا اس میں گڑبڑ کی گئی، اور نہ ہی یہ اطمینان ہوتا ہے کہ عبادت صحیح طریقے سے ادا ہوئی یا نہیں۔ صرف ایک تصویر، ایک ویڈیو یا ایک پیغام بھیج دیا جاتا ہے اور لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ قربانی ہوگئی اور یہاں ہم حلق کروا کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ قربانی صرف پیسے بھیجنے کا نام نہیں بلکہ، ایک ایمانی کیفیت ہے، ایک قلبی جذبہ ہے۔ جب انسان جانور کو اپنی نگاہوں کے سامنے دیکھتا ہے، اس کی خدمت کرتا ہے، اس کے ساتھ اُنسیت پیدا ہوتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ کے نام پر اسے قربان کیا جاتا ہے تو دل میں خشوع، رقّت، بندگی اور روحانی تاثیر پیدا ہوتی ہے۔ یہی قربانی کی اصل روح ہے۔ مگر جب قربانی ہزاروں میل دور، کسی نامعلوم مقام پر، کسی غیر معروف شخص کے ذریعے محض “آن لائن ٹرانزیکشن” بن جائے تو پھر عبادت کی وہ لذت، وہ کیفیت، وہ روحانی سرور اور وہ ایمانی احساس کہاں باقی رہ جاتا ہے؟

 

افسوس یہ ہے کہ بعض لوگ قربانی کو بھی صرف “کم خرچ میں نمٹانے” کا معاملہ سمجھ بیٹھے ہیں۔ انہیں اس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ عبادت کا معیار کیا ہے، صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ خرچہ کتنا کم ہوا۔ یہی مادہ پرستانہ ذہنیت قربانی کی جان کو تباہ کررہی ہے۔ قربانی کا مقصد صرف جانور ذبح کرنا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی محبت، وفاداری، ایثار اور تقویٰ پیش کرنا ہے۔ اگر عبادت سے قلبی تعلق، روحانی کیفیت اور شعائرِ اسلام کی عظمت نکل جائے تو پھر صرف ظاہری رسم باقی رہ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اسلاف قربانی اپنے سامنے کرتے تھے، جانور کو دیکھتے تھے، ذبح کے وقت موجود رہتے تھے، تکبیرات سنتے تھے، اور اس عظیم عبادت کی روحانی تاثیر کو محسوس کرتے تھے۔ آج افسوس کہ سستی نے لوگوں کو عبادت کی اصل حقیقت سے دور کردیا ہے۔

 

یاد رکھیے! حقیقی اہلِ علم و اہلِ تقویٰ کبھی بھی قربانی کو تجارت نہیں بناتے۔ ان کے نزدیک عبادت کی صحت، شرعی اصولوں کی پابندی، دیانت، امانت اور اللہ تعالیٰ کی رضا سب سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔ وہ تعداد بڑھانے، منافع کمانے اور نام و نمود کے بجائے اس بات کی فکر کرتے ہیں کہ لوگوں کی عبادت صحیح طور پر ادا ہو۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ صرف ناموں اور دعووں سے متاثر نہ ہوں بلکہ حقیقت کی تحقیق کریں۔ یہ دیکھیں کہ واقعی دینی نگرانی موجود ہے یا صرف نام استعمال ہورہا ہے؟ کیا جانور سامنے ہیں؟ کیا شرعی اصولوں کی پابندی ہورہی ہے؟ کیا دیانت داری موجود ہے؟ کیا منتظمین میں خوفِ خدا پایا جاتا ہے؟ اگر یہ چیزیں نہ ہوں تو صرف “علماء و اولیاء کی نگرانی” کا جملہ کسی جگہ کو معتبر نہیں بنادیتا۔

 

قربانی کو محض ایک رسمی عمل، تجارتی معاملہ یا گوشت حاصل کرنے کا ذریعہ نہ بنائیے، بلکہ اسے اُس عظیم عبادت کے طور پر ادا کیجیے جسے اللہ تعالیٰ نے شعائرِ اسلام میں شامل فرمایا ہے۔ سستی کے فریب، مصنوعی اشتہارات، نامعلوم اسکیموں اور مشکوک انتظامات کے پیچھے بھاگتے بھاگتے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم قربانی کی اصل روح، اس کی برکت، اس کی قبولیت اور اس کی روحانی تاثیر ہی کھو بیٹھیں۔ یاد رکھیے! قربانی صرف پیسے بھیج دینے کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور اطاعت اور تقویٰ پیش کرنے کا نام ہے۔ اس لیے حتی الامکان کوشش کیجیے کہ قربانی کا جانور اپنی نگاہوں کے سامنے ہو۔ اس کی صحت، حالت اور شرعی حیثیت کا اطمینان حاصل کیجیے۔ جانور کو دیکھیے، اس کے ساتھ کچھ وقت گزاریے، اس کی خدمت کیجیے، اسے چارہ ڈالیے، پانی پلائیے، تاکہ دل میں اُس کے ساتھ ایک اُنسیت اور تعلق پیدا ہو۔ پھر جب اللہ تعالیٰ کے نام پر اُسی جانور کو قربان کیا جائے تو انسان کے دل میں بندگی، خشوع، رقّت اور روحانی کیفیت پیدا ہو۔ یہی قربانی کی اصل روح ہے۔ ذبح کے وقت وہاں موجود رہیے، تکبیرات سنیے، اللہ تعالیٰ کا نام لیتے ہوئے اُس منظر کو دیکھیے، کیونکہ یہی وہ لمحہ ہے جب انسان کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال اطاعت یاد آتی ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب بندۂ مؤمن کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اپنی بندگی کا حقیقی احساس بیدار ہوتا ہے۔ اگر ہم قربانی کو صرف “آن لائن رسید”، “ڈیجیٹل تصویر” اور “سستا حصہ” بنا دیں گے تو قربانی کی وہ روحانی تاثیر اور ایمانی کیفیت ختم ہوجائے گی جو اس عبادت کا اصل مقصد ہے۔ لہٰذا ایسے مقامات کو اختیار کیجیے جہاں علماءِ کرام کی نگرانی ہو، دیانت دار اور دینی مزاج رکھنے والے افراد موجود ہوں، جانور واضح اور معتبر ہوں، شرعی ذبح کا مکمل اہتمام ہو، اور عبادت کو واقعی عبادت سمجھ کر انجام دیا جاتا ہو۔ نئے نئے نامعلوم مراکز، غیر معروف اسکیموں اور غیر معتبر افراد کے پیچھے صرف سستی کی خاطر مت بھاگیے۔ کیونکہ چند ہزار روپے کی بچت اگر عبادت کی صحت، قلبی اطمینان اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو خطرے میں ڈال دے تو یہ بہت بڑا خسارہ ہے۔ قربانی کا اصل حسن اخلاص، تقویٰ، للہیت اور شعائرِ اسلام کی تعظیم میں ہے۔ قربانی وہاں زندہ رہتی ہے جہاں ایمان زندہ رہتا ہے۔ قربانی وہاں قبول ہوتی ہے جہاں دلوں میں خشیتِ الٰہی، محبتِ رسول ﷺ اور جذبۂ بندگی موجود ہو

 

لہذا آج ضرورت اس بات کی ہے کہ امتِ مسلمہ جذبات کے بجائے بصیرت کام لے *۔ ہر چمکتی ہوئی چیز سونا نہیں ہوتی،* اور ہر دینی نعرہ حقیقت نہیں ہوتا۔ بعض لوگ دین، علماء اور اولیاء کے مقدس ناموں کو محض اعتماد حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، جبکہ حقیقت میں مقصد صرف زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنا ہوتا ہے۔ قربانی عبادت ہے، تجارت نہیں۔ قربانی تقویٰ ہے، منفعت اندوزی نہیں۔ قربانی اخلاص ہے، فریب کاری نہیں۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ معتبر، معروف، دیانت دار اور حقیقی دینی نگرانی والے مقامات کا انتخاب کریں، جنہیں آپ جانتے ہوں اور وہاں جا کر خود معائنہ کر سکتے ہوں اور ہر اُس جگہ سے بچیں جہاں دین کے نام پر تجارت اور عبادت کے نام پر کاروبار کا بازار گرم ہو۔

 

اللہ امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے اور خاص کر بھولے بھالے مسلمانوں کی ایسے دھوکے بازوں کے چنگل میں پھنسنے سے اللہ حفاظت فرمائے

متعلقہ خبریں

Back to top button