نند کے ہاتھوں بھابھی کا قتل – شوہر کے ساتھ تعلقات کا شبہ – رشتوں کو شرمسار کرنے والا واقعہ
میرٹھ میں شوہر سے ناجائز تعلقات کے شبہ میں نند نے بھابھی کو چاقو سے گود کر قتل کردیا، 2 دن بعد خود پولیس کے سامنے پیش
لکھنو: اترپردیش کے میرٹھ شہر میں شوہر سے ناجائز تعلقات کے شبہ میں ایک نند نے اپنی بھابھی کو چاقو سے گود کر قتل کردیا۔ واردات کے بعد گھر والوں نے فرش پر گرنے سے موت کی کہانی بناکر معاملہ چھپانے کی کوشش کی۔ لیکن پچھتاوا ہونے پر نند دو دن بعد خود پولیس کے پاس پہنچ گئی اور قتل کا اعتراف کرلیا۔
نند نے پولیس کو بتایا، "مجھے رات بھر نیند نہیں آئی۔ میرے شوہر اور بھابھی کے درمیان 4 سال سے تعلقات تھے۔ میں نے بھابھی سے کہا کہ میرے شوہر کا پیچھا چھوڑ دو۔ اس پر اس نے جواب دیا کہ پہلے اپنے شوہر کو سنبھالو۔ اسی بات پر غصے میں آکر میں نے کچن سے چاقو اٹھایا اور اس کے سینے پر کئی وار کردیئے۔”
12 جولائی کو دوپہر تقریباً ساڑھے 3 بجے لساڑی گیٹ تھانہ حدود کے احمد نگر میں پیش آئے اس واقعہ میں پولیس نے نند کو گرفتار کرکے قتل میں استعمال چاقو برآمد کرلیا ہے۔ وہیں، معاملہ سامنے آنے کے بعد مقتولہ کے شوہر سمیت سسرال والے فرار ہیں۔
احمد نگر گلی نمبر 2 میں رہنے والے حاجی زاہد شہر میں ایمپائر ٹیلرز کے نام سے دکان چلاتے ہیں۔ وہ تقریباً 40 سال سے اس کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ان کے خاندان میں دو بیٹے شاہویز اور شازیب اور ایک بیٹی رِمشا ہے۔ سوبھاش بازار میں واقع پہلی دکان پر حاجی زاہد خود بیٹھتے ہیں، جبکہ احمد نگر کی دوسری شاخ شاہویز سنبھالتا ہے۔
تقریباً 6 سال قبل شاہویز کی شادی کِدوائی نگر کی رہنے والی ندا عرف سونی (28) سے ہوئی تھی۔ دونوں کے دو بچے ہیں۔ وہیں رِمشا (25) کی شادی احمد نگر سے تقریباً 3 کلومیٹر دور کریم نگر میں رہنے والے اویس سے ہوئی ہے۔ اویس آن لائن کپڑوں کا کاروبار کرتا ہے۔
پڑوسیوں کے مطابق کپڑوں کے کاروبار کی وجہ سے اویس کا شاہویز کے گھر آنا جانا تھا۔ اسی دوران اس کی ندا سے قربت بڑھ گئی۔ تقریباً 8 ماہ قبل شاہویز نے اپنی بہن رِمشا کی شادی اویس سے کردی۔ اس کے باوجود اویس اور ندا کے درمیان بات چیت جاری رہی۔ اس پر رِمشا کئی بار اعتراض کرتی تھی۔
رِمشا نے پولیس کو بتایا کہ واقعہ والے دن یعنی اتوار کو اس نے بھابھی کو اپنے شوہر سے بات کرتے دیکھ لیا تھا۔ اس نے کچن میں ندا سے کہا کہ وہ اس کے شوہر کا پیچھا چھوڑ دے۔ اس پر ندا نے جواب دیا، "پہلے اپنے شوہر کو سنبھالو، دوسرے پر الزام بعد میں لگانا۔” اسی بات پر دونوں کے درمیان بحث ہوگئی۔
غصے میں رِمشا نے کچن میں رکھا چاقو اٹھایا اور ندا کے سینے پر مسلسل کئی وار کردیئے۔ شدید زخمی ندا وہیں گر پڑی۔
چیخ و پکار سن کر خاندان کے افراد موقع پر پہنچے۔ ندا کو اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ اس کے بعد خاندان نے واقعہ کو حادثہ بتاکر معاملہ چھپانے کی کوشش کی۔ پولیس کو بتایا گیا کہ ندا فرش پر گرنے سے زخمی ہوئی تھی۔
ندا کے میکے والوں کے مطابق 12 جولائی کو دوپہر تقریباً ساڑھے 3 بجے پڑوسی کا فون آیا کہ سسرال میں ان کی بیٹی کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی ندا کی ماں، دونوں بھائی اور دیگر اہل خانہ موقع پر پہنچ گئے۔
گھر کے اندر ندا کی لاش فرش پر پڑی تھی اور آس پاس کافی خون پھیلا ہوا تھا۔ اس کے ہاتھ، پیروں اور گلے پر چوٹ کے نشانات تھے۔ یہ دیکھ کر میکے والوں نے قتل کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے پولیس کو اطلاع دی۔ اس پر سی او کوتوالی سنگرام سنگھ اور لساڑی گیٹ تھانے کی پولیس موقع پر پہنچی۔ میکے والوں کی شکایت پر تحقیقات شروع کردی گئی۔
ابتدائی طور پر رِمشا نے بھی پولیس کو یہی بتایا کہ ندا فرش پر گرنے سے زخمی ہوئی تھی۔ تاہم منگل 14 جولائی کو وہ خود پولیس کے پاس پہنچ گئی اور قتل کا اعتراف کرلیا۔ اس نے بتایا کہ واردات کے بعد سے اسے رات بھر نیند نہیں آرہی تھی۔ اس کے بعد پولیس نے نند کو گرفتار کرلیا اور رات دیر گئے پورے قتل کا انکشاف کردیا۔
تحقیقات اور تکنیکی شواہد سے واضح ہوا کہ مقتولہ کی اپنے نندوئی کے ساتھ بڑھتی قربتوں پر رِمشا ناراض تھی۔ واقعہ والے دن اسی بات کو لے کر دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا تھا۔ اس کے بعد رِمشا نے کچن سے چاقو اٹھاکر ندا پر حملہ کردیا، جس سے اس کی موت ہوگئی۔
پولیس کے مطابق ملزمہ کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور قتل میں استعمال چاقو بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔ معاملے میں دیگر افراد کے کردار کی بھی تحقیقات کی جارہی ہے۔




