ایجوکیشن

ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی کے زیرِ اہتمام جشنِ کامیابی چراغِ امت۔علمائے کرام کے بچوں کے لئے 50 فیصد رعایت بحال، تربیہ ڈپارٹمنٹ کے قیام کا اعلان

حیدرآباد: 3 جون ۔پریس ریلیزایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی کے زیرِ اہتمام جشنِ کامیابی چراغِ امت کے عنوان سے ایک باوقار تقریبِ تہنیت منعقد ہوئی، جس میں علمائے کرام، ائمہ اور خطباء کے اُن بچوں اور بچیوں کو اعزازات سے نوازا گیا جو ایم ایس کے طلبہ ہیں اور جنہوں نے ایس ایس سی، انٹرمیڈیٹ اور ڈگری کورسز میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ تقریب میں علمائے کرام، ائمہ، خطباء، ماہرینِ تعلیم، والدین اور طلباء و طالبات کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

 

اس موقع پر ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی کے منیجنگ ڈائریکٹرز جناب انور احمد اور ڈاکٹر معظم حسین نے کامیاب طلباء و طالبات کی گلپوشی اور تہنیت کرتے ہوئے ان کی علمی کامیابیوں کو سراہا۔ تقریب میں مجموعی طور پر تقریباً 112 طلبہ و طالبات کو ان کی نمایاں تعلیمی کارکردگی پر اعزازات پیش کیے گئے۔

 

نائب ناظم مجلسِ علمیہ تلنگانہ و آندھرا پردیش مولانا محمد بن عبدالرحیم بانعیم نے اپنے خطاب میں علمائے کرام کی دینی، تعلیمی اور سماجی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ علماء امت کا عظیم سرمایہ اور ورثۂ انبیاء ہیں۔ انہوں نے ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی کی جانب سے علماء کے بچوں کے لیے جاری خصوصی تعلیمی سہولیات کو مثالی قرار دیا۔

 

تقریب کا سب سے اہم اعلان ’’علماء کیٹیگری اسکالرشپ‘‘ کے تحت فیس رعایت کی بحالی تھا۔ واضح رہے کہ ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی گزشتہ تقریباً بیس برسوں سے علمائے کرام کے بچوں کو خصوصی رعایت فراہم کر رہی ہے۔ کورونا اور لاک ڈاؤن کے بعد پیدا ہونے والے مالی حالات کے باعث اس رعایت کو عارضی طور پر 50 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد کردیا گیا تھا۔ تاہم علمائے کرام کی نمائندہ شخصیات کے ساتھ مشاورت کے بعد ادارے نے رواں تعلیمی سال سے دوبارہ 50 فیصد فیس رعایت بحال کرنے کا اعلان کیا، جسے حاضرین نے خیر مقدم کیا۔

 

ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی کے بانی و چیئرمین جناب محمد لطیف خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’چراغِ امت‘‘ دراصل ان بچوں کی حوصلہ افزائی کی ایک منفرد کوشش ہے جو علماء اور دین کے خادمین کے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ملک بھر میں تقریباً 960 علماء کے بچے ایم ایس کے مختلف اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جن میں 677 طلبہ و طالبات صرف حیدرآباد اور تلنگانہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

 

انہوں نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ایم ایس نے اپنے سابقہ ’’دینیات ڈپارٹمنٹ‘‘ کو جدید تقاضوں کے مطابق ازسرِنو منظم کرتے ہوئے ’’تربیہ ڈپارٹمنٹ‘‘ قائم کیا ہے۔ اس نئے شعبہ کا مقصد صرف دینی معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ طلبہ کی شخصیت سازی، اخلاقی تربیت، کردار سازی اور خدمتِ انسانیت کے جذبے کو فروغ دینا ہے تاکہ ہر استاد صرف معلم ہی نہیں بلکہ مربی بھی بن سکے۔

 

جناب محمد لطیف خان نے اس موقع پر یہ وضاحت بھی کی کہ علماء کیٹیگری، حفاظِ کرام اور دیگر رعایتی تعلیمی پروگراموں پر کسی قسم کی زکوٰۃ کی رقم خرچ نہیں کی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام سہولیات ادارے کے اپنے وسائل اور انتظامیہ کی خصوصی کاوشوں کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں تاکہ امت کے باصلاحیت بچوں کو معیاری تعلیم کے مواقع میسر آسکیں۔

 

تقریب کے اختتام پر علمائے کرام نے ایم ایس ایجوکیشن اکیڈیمی کی خدمات، علماء کے بچوں کے لیے 50 فیصد رعایت کی بحالی اور ’’تربیہ ڈپارٹمنٹ‘‘ کے قیام کو ایک دور رس اور قابلِ تحسین اقدام قرار دیتے ہوئے ادارے کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button