ہیرا گروپ نوہیرا شیخ کی پرسنل اسسٹنٹ گرفتار۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی کاروائی

حیدرآباد: انفوسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے حیدرآباد زونل دفتر نے ہیرا گروپ منی لانڈرنگ کیس میں اہم کارروائی کرتے ہوئے نازنین انصاری عرف عابدہ کو گرفتار کر لیا ہے جو ہیرا گروپ کی سربراہ نوہیرہ شیخ کی پرسنل اسسٹنٹکے طور پر کام کر رہی تھیں۔
ای ڈی کے مطابق نازنین انصاری کو منگل کے روز پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ (PMLA) 2002 کی دفعہ 19 کے تحت گرفتار کیا گیا۔ مرکزی ایجنسی نے چہارشنبہ کو جاری کردہ بیان میں بتایا کہ یہ تحقیقات تلنگانہ اور آندھرا پردیش پولیس کی جانب سے درج متعدد ایف آئی آرز کی بنیاد پر شروع کی گئی تھیں
جن میں نوہیرا شیخ، ہیرا گروپ اور دیگر افراد پر جعلی سرمایہ کاری اسکیموں کے ذریعے سرمایہ کاروں سے بھاری رقوم جمع کرکے دھوکہ دہی کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ نازنین انصاری نہ صرف نوہیرا شیخ کی قریبی معاون تھیں
بلکہ ای ڈی کی جانب سے ضبط شدہ جائیدادوں سے کرایہ وصول کرنے نئے سرمایہ کاروں کو ہیرا گروپ میں سرمایہ کاری پر آمادہ کرنے اور مختلف سرکاری اداروں کو گمراہ کرنے میں بھی سرگرم کردار ادا کر رہی تھیں۔ای ڈی کے مطابق نازنین انصاری ضبط شدہ جائیدادوں جو مبینہ طور پر جرم سے حاصل شدہ آمدنی کا حصہ تھیں
کے استعمال اور قبضے میں ملوث تھیں اور ان جائیدادوں کے تجارتی استعمال کو جاری رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی تھیں۔تحقیقاتی ایجنسی نے کہا کہ اگرچہ وہ ہیرا گروپ کے خلاف جاری تحقیقات سے مکمل طور پر واقف تھیں اس کے باوجود متاثرین سے سرمایہ کاری حاصل کرنے کی سرگرمیوں میں شامل رہیں۔
تحقیقات میں جمع کیے گئے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر جرم سے حاصل شدہ اثاثوں کے استعمال چھپانے ان کی نمائندگی اور مزید غیر قانونی آمدنی پیدا کرنے میں معاونت کی جو منی لانڈرنگ کے زمرے میں آتا ہے۔ای ڈی نے مزید بتایا کہ نازنین انصاری کے قبضے میں
موجود کئی ضبط شدہ جائیدادیں سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق نیلام کی جا چکی ہیں۔ ایجنسی کے مطابق وہ سپریم کورٹ کے احکامات سے بخوبی واقف تھیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنے ماتحت عملے کو ہدایت دی کہ ضبط شدہ جائیدادوں کے معائنے کی اجازت نہ دی جائے اور انہیں غیر متنازعہ جائیدادوں
کے طور پر پیش کیا جائے جس سے نیلامی کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ای ڈی نے خبردار کیا ہے کہ قانونی کارروائی سے بچنے تحقیقات میں مداخلت کرنے یا نیلامی کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ایجنسی کے مطابق اس معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید اہم انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے۔



