حیدرآباد میں نقلی و غیر معیاری چاکلیٹس کی تیاری کا پردہ فاش

حیدرآباد: معمولی مالی فائدے کے لیے بچوں کی صحت کو داؤ پر لگانے والے ایک مبینہ غیر قانونی کاروبار کا پردہ فاش کرتے ہوئے حیدرآباد سٹی پولیس نے سیتارام باغ میں قائم ایک چاکلیٹ کی تیاری یونٹ پر اچانک دھاوا کیا۔ اس کارروائی
کے دوران ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ بڑی مقدار میں مشتبہ غیر معیاری اور استعمال کی معیاد ختم ہونے کے باوجود فروخت کی جانے والی چاکلیٹس کیمیکلز اور مشینری ضبط کر لی گئی۔پولیس کے مطابق سیتارام باغ میں واقع
یونٹ میں چاکلیٹس کی تیاری ری پیکنگ اور فروخت کے نام پر فوڈ سیفٹی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی جا رہی تھیں۔ چھاپے کے دوران کونڈہ کارتک نامی شخص کو گرفتار کیا گیا جو مبینہ طور پر زیادہ منافع کمانے کی خاطر غیر
معیاری اشیاء استعمال کرتے ہوئے چاکلیٹس تیار اور فروخت کر رہا تھا۔تحقیقات کے دوران حکام نے انکشاف کیا کہ متعدد چاکلیٹ پیکٹس پر تیاری کی تاریخ، بیچ نمبر، معیادِ استعمال (ایکسپائری ڈیٹ) اور "بیسٹ بیفور” جیسی لازمی تفصیلات
درج نہیں تھیں،جو صارفین خصوصاً بچوں کی صحت کے لیے سنگین خطرہ تصور کی جاتی ہیں۔مزید جانچ میں یہ چونکا دینے والا انکشاف بھی سامنے آیا کہ چاکلیٹس کی تیاری میں استعمال کی معیاد ختم ہو چکے فلیورز، ایسنسز اور
مصنوعی رنگ استعمال کیے جا رہے تھے۔ ماہرین کے مطابق ایسی اشیاء کا استعمال صحت پر مضر اثرات مرتب کر سکتا ہے اور فوڈ سیفٹی قوانین کے تحت سنگین جرم کے زمرے میں آتا ہے۔حکام نے یہ بھی پایا کہ اگرچہ کمپنی کے پاس نیا
فوڈ لائسنس موجود تھا تاہم مصنوعات کی فروخت کے لیے پرانے لائسنس نمبر کا استعمال کیا جا رہا تھا۔ اس کے علاوہ ملازمین کے میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹس اور پیسٹ کنٹرول سے متعلق ضروری ریکارڈ بھی دستیاب نہیں تھا، جو فوڈ
سیفٹی ضوابط کی واضح خلاف ورزی ہے۔کارروائی کے دوران تقریباً 200 کلوگرام چاکلیٹ، 20 کلوگرام چاکو بالز، چاکلیٹ اسٹکس، مارش میلو، کرین بیری، پان اور کاجو چاکلیٹس سمیت بڑی مقدار میں تیار شدہ مصنوعات ضبط کی گئیں۔ اس
کے علاوہ چار پیکنگ مشینیں اور دو چاکلیٹ میلٹنگ مشینیں بھی حکام نے اپنی تحویل میں لے لیں۔فوڈ سیفٹی حکام نے کہا کہ عوام کی صحت کے ساتھ کسی بھی قسم کی لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی اور ایسے عناصر کے خلاف
سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔ پولیس نے اس سلسلے میں مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ اس غیر قانونی کاروبار سے جڑے دیگر افراد کا بھی پتہ لگایا جا سکے۔



