خان سر کی گرفتاری پر عدالت نے لگائی روک

نئی دہلی: خان سر کو عدالت نے ایک بڑی خوشخبری سنائی۔ پٹنہ سیول کورٹ نے ان کی گرفتاری پر روک لگا دی ہے۔ خان سر پر 2 جون کو اپنے کوچنگ سنٹر کے باہر مبینہ طور پر فائرنگ کروانے کا الزام ہے اس کے لیے ان کے خلاف معاملہ
درج کیا گیا تھا۔ گزشتہ پیر کے روز انھوں نے پٹنہ کے سیول کورٹ میں پیشگی ضمانت کی عرضی داخل کی تھی۔قابل ذکر ہے کہ خان سر کے خلاف پٹنہ کے کدم کنواں تھانہ میں ایف آئی آر درج ہے۔ ایک وائرل ویڈیو کی بنیاد پر خان سر کے خلاف
معاملہ درج کیا گیا ہے۔ ویڈیو 2 جون کی ہے۔ ویڈیو میں ان کے کوچنگ ادارہ کے 2 سیکورٹی گارڈ فائرنگ کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ واقعہ کے بعد یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ وائرل ہو گئی۔ اس کے بعد پٹنہ پولیس نے خان سر کے
دونوں سیکورٹی گارڈ کو حراست میں لیا اور بعد میں انھیں گرفتار کر لیا۔دراصل 2 جون کی شب خان سر کے کوچنگ سنٹر کے باہر کچھ لوگوں نے توڑ پھوڑ اور مار پیٹ کا واقعہ انجام دیا تھا۔ اس دوران خان سر کوچنگ سنٹر کے پوسٹر بھی پھاڑے
گئے اور ان کے گارڈ کے ساتھ مار پیٹ بھی ہوئی۔ خان سر نے شرپسندوں کے ذریعہ فائرنگ کا دعویٰ کیا تھا حالانکہ بعد میں انھوں نے اسے غلط فہمی سے تعبیر کیا اور اپنا بیان واپس لے لیا۔ جب گارڈ سے فائرنگ کے بارے میں سوال کیا گیا
تو انھوں نے جواب دیا کہ خان سر کے کہنے پر اپنے دفاع میں فائرنگ کی۔ اس کے بعد تحقیقات کا دائرہ بڑھ گیا اور پولیس نے خان سر کے خلاف آرمس ایکٹ کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی۔ پیر کے روز ان کے وکیلوں نے پٹنہ سول کورٹ
میں پیشگی ضمانت کی عرضی داخل کی حالانکہ اس سے قبل ان کے عدالت میں خود سپردگی کرنے کی بھی خبریں آئیں لیکن وہ عدالت نہیں پہنچے۔ اس کے بعد پیشگی ضمانت عرضی داخل کی
گئی تھی اور 9 جون کو پٹنہ سیول کورٹ نے ان کی گرفتاری پر روک لگا دی۔



