بی جے پی رکن پارلیمنٹ کی بیٹی کی احتجاجی طلباء کو تائید
نئی دہلی/انٹرنیٹ ڈیسک: مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد اگرچہ طلبہ کے احتجاج کا سلسلہ ختم ہوگیا لیکن اس معاملے پر سوشل میڈیا میں بحث بدستور جاری ہے۔
اسی دوران اڑیسہ سے تعلق رکھنے والی بی جے پی کی رکنِ پارلیمنٹ اپراجیتا سارنگی کی بیٹی ارچیتا سچن رہر نے دھرمیندر پردھان کے استعفے پر خوشی کا اظہار کیا جو خاصی توجہ کا مرکز بن گیا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ اگرچہ ان کا خاندان دھرمیندر پردھان کی حمایت کرتا ہے لیکن ان کی اپنی حمایت طلبہ کے ساتھ ہے۔ ان کی یہ پوسٹس تیزی سے وائرل ہو گئیں۔
تاہم چند گھنٹوں بعد ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس نظر آنا بند ہوگئے۔ارچیتا نے اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ نیٹ کے پرچہ لیک ہونے کے خلاف طلبہ کے بڑے پیمانے پر احتجاج کے نتیجے میں دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دیا۔
اس بیان سے بی جے پی کے بعض قائدین ناراض ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق دھرمیندر پردھان کے دفتر کی جانب سے درخواست آنے پر رکنِ پارلیمنٹ نے اپنی بیٹی سے وہ پوسٹ حذف کرنے کو کہا لیکن ارچیتا نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔
بعد میں انہوں نے ایک اور پوسٹ کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ کسی بھی صورت میں اپنی پوسٹ حذف نہیں کریں گی۔ان واقعات کے بعد رکنِ پارلیمنٹ اپراجیتا سارنگی نے ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دھرمیندر پردھان نے اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دیا جو ایک قابلِ احترام اقدام ہے اور وہ اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑی رہیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر شخص کو اپنے خیالات آزادانہ طور پر ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے اور چونکہ ارچیتا کا تعلق "جن زی” سے ہے اس لیے اسے بھی اپنی رائے بیان کرنے کا پورا حق ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل آسام کے وزیر کیشو مہنتا کی بیٹی کی دہلی میں طلبہ کے احتجاج میں شرکت بھی کافی زیرِ بحث رہی تھی۔



