نفرت انگیز بیانات پر راجہ سنگھ کے خلاف سخت کارروائی کا ٹی آر ایس قایدین نے کیا مطالبہ

ریاست میں محکمہ تعلیم کی صورتحال انتہائی تشویشناک
*ہزاروں اسکول بند کرنے کی سازش، غریبوں کے مستقبل پر کاری ضرب*
تعلیمی نظام کی بہتری کے لئے سنجیدہ اقدامات اور نفرت انگیز بیانات پر راجہ سنگھ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ
ریاست تلنگانہ میں تعلیم کے بگڑتے ہوئے حالات پالیسیوں میں تضاد اور غریب دشمن تعلیمی فیصلوں کے خلاف تلنگانہ رکشنا سینا کے قائدین کی جانب سے ایک اہم پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تلنگانہ رکشنا سینا کے قائدین نے ریاست کی موجودہ تعلیمی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی جانب سے ریاست کے 27 ہزار سرکاری اسکولوں کو گھٹا کر صرف 4 ہزار تک محدود کرنے کا بیان انتہائی افسوسناک غیر دانشمندانہ اور عوام مخالف ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ براہ راست غریب طبقات اور بالخصوص لڑکیوں کے مستقبل کو تاریک کرنے والا ہے کیونکہ اگر سرکاری اسکول کم کیے جاتے ہیں تو سب سے زیادہ نقصان ان غریب خاندانوں کو ہوگا جو اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے صرف سرکاری نظام پر انحصار کرتے ہیں لہٰذا یہ پالیسی دراصل تعلیم کے حق کو چھیننے کے مترادف ہے۔
قائدین نے محکمہ تعلیم کی نااہلی کو بے نقاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس وقت تعلیمی پالیسیوں میں تضاد اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ ایک طرف انٹرمیڈیٹ نظام کو ختم کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں اور دوسری طرف اسی کے تحت داخلوں کا اعلان بھی کیا جا رہا ہے جبکہ جونیئر کالجوں میں الحاق کا مسئلہ ہو یا ڈگری داخلوں میں افراتفری ہر جگہ طلبہ کا مستقبل غیر یقینی کا شکار ہو چکا ہے۔ انہوں نے گروکل اسکولوں اور اداروں میں سو سے زائد طلبہ کی پراسرار و افسوسناک اموات پر حکومت کی مجرمانہ خاموشی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت تعلیمی نظام پر اپنی گرفت پوری طرح کھو چکی ہے۔
حکومتی فیصلوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے قائدین نے شدید برہمی کا اظہار کیا کہ فیس ری ایمبرسمنٹ کے ہزاروں کروڑ روپے بقایا ہونے کے باوجود حکومت نے جی او نمبر 7 نافذ کر دیا ہے جو کہ دراصل غریب طلبہ کے لیے فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم کو ختم کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے اور اس سے طلبہ اور والدین پر ناقابل برداشت اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔ انہوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم کو ختم کرنے کے لیے جاری کردہ اس عوام دشمن جی او نمبر 7 کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور نجی تعلیمی اداروں کی من مانی و لوٹ کھسوٹ کو لگام دینے کے لیے فوری طور پر ایک جامع فیس کنٹرول قانون لایا جائے تاکہ غریب و متوسط طبقے کے طلبہ کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔
پریس کانفرنس کے دوران قائدین نے گوشہ محل کے بی جے پی رکن اسمبلی راجہ سنگھ کے حالیہ متنازعہ بیان کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف ریاست کا تعلیمی نظام شدید بحران سے گزر رہا ہے اور دوسری طرف کچھ عوامی نمائندے مسلسل ایسے بیانات دے رہے ہیں جو صرف سرخیوں میں رہنے اور ماحول کو خراب کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ راجہ سنگھ کا یہ رویہ نیا نہیں ہے، وہ اکثر اشتعال انگیز بیانات دے کر خبروں میں رہنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ سماج میں کشیدگی پیدا ہو اور حکومت کی ناکامیاں اور تعلیم جیسے اصل عوامی مسائل پس منظر میں چلے جائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی نمائندوں کا کام سماج کو جوڑنا ہے نہ کہ تقسیم پیدا کرنا اور ایسی غیر ذمہ دارانہ بیان بازی جمہوری اقدار کے خلاف ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
قبل ازیں تلنگانہ رکشنا سینا چیف کلواکنٹلہ کویتا کی ہدایت پر ایک احتجاجی دھرنا بھی منظم کیا گیا جس میں موجود قائدین اور طلبہ نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور یہ انتباہ دیا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے، جی او نمبر 7 کو منسوخ نہیں کیا اور فیس کنٹرول قانون نافذ نہ کیا تو تلنگانہ رکشنا سینا غریبوں اور طلبہ کے حقوق کے لیے ریاست گیر سطح پر اپنی تحریک کو مزید تیز کرے گی کیونکہ ریاست کی حقیقی ترقی کا راستہ صرف تعلیم، انصاف اور سماجی ہم آہنگی سے ہی ممکن ہے۔



