جنرل نیوز

دنیا کی ظاہری عظمت نہیں، اللہ کی رضا ہی اصل کامیابی ہے: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

دنیا کی ظاہری عظمت نہیں، اللہ کی رضا ہی اصل کامیابی ہے: مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

حیدرآباد، 24 جولائی (پریس نوٹ):

دنیا کی عارضی چمک دمک، مال و دولت، شہرت، اقتدار اور ظاہری وجاہت انسان کے لیے حقیقی کامیابی کا معیار نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا، ایمان، تقویٰ، اخلاص اور حسنِ کردار ہی اصل عظمت اور دائمی کامیابی کا ذریعہ ہیں۔ اسلام نے انسان کو عزت و رفعت کا وہ ابدی تصور عطا کیا ہے جس کے ذریعے انسان دنیا کی فانی زندگی سے بلند ہوکر آخرت کی دائمی کامیابی کا مستحق بنتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار خطیب و امام مسجد تلنگانہ اسٹیٹ حج ہاؤز، نامپلی، حیدرآباد، صدر فروغِ لسانیات (Languages Development Organization)، مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے آج جمعہ کے خطاب میں قرآن و سنت کی روشنی میں کیا۔ انہوں نے نہایت مؤثر اور فکر انگیز انداز میں فرمایا کہ دنیا کی نگاہ میں بڑا بن جانا کوئی کمال نہیں، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول ہو جائے۔ قرآن مجید نے اس حقیقت کو واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: "إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ”، یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔

مولانا نے اپنے خطاب میں رسول اکرم ﷺ کے ایک نہایت سبق آموز واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ حضور نبی کریم ﷺ نے دو اشخاص کے بارے میں صحابۂ کرامؓ سے دریافت فرمایا۔ ایک شخص دنیاوی اعتبار سے صاحبِ حیثیت اور بااثر تھا جبکہ دوسرا شخص دنیاوی وجاہت سے محروم تھا۔ اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ کمزور اور گمنام شخص پہلے شخص سے زیادہ بہتر ہے۔ اس حدیث مبارکہ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ دنیاوی عظمت اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبولیت دو الگ چیزیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا مال، اقتدار، شہرت اور اثر و رسوخ کو عظمت کا معیار سمجھتی ہے، لیکن اسلام نے تقویٰ، اخلاص، نیک اعمال، حسنِ اخلاق اور اطاعتِ الٰہی کو حقیقی عزت قرار دیا ہے۔ اگر انسان اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول ہو تو دنیا کی محرومیاں اس کی عظمت کو کم نہیں کر سکتیں، اور اگر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہ ہو تو دنیا کی تمام کامیابیاں بھی بے معنی ہیں۔

مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے کہا کہ ایمان اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، لیکن اس کی حفاظت اس سے بھی بڑی ذمہ داری ہے۔ ایمان کی بقا قرآن مجید سے مضبوط تعلق، سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی، اخلاص، صالح اعمال اور نیک صحبت سے وابستہ ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ قرآن مجید کو رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات سے الگ کرکے نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ قرآن ہدایت کا دستور ہے اور رسول اللہ ﷺ اس کی عملی تفسیر ہیں۔

انہوں نے فرمایا کہ شیطان انسان کے عقائد اور اعمال دونوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اخلاص انسان کے لیے مضبوط حصار ہے۔ عبادات، خدمت، صدقہ و خیرات اور دیگر اعمال اسی وقت بارگاہِ الٰہی میں قبول ہوتے ہیں جب ان کی بنیاد خالص اللہ تعالیٰ کی رضا پر ہو۔

مولانا نے مزید کہا کہ بیت اللہ، کلامِ الٰہی اور رسول اللہ ﷺ کی نسبت انسان کو ایک ہی منزل، یعنی اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کی رضا تک پہنچاتی ہے۔ حج، عمرہ، نماز، روزہ اور دیگر عبادات کا مقصد محض ظاہری اعمال کی ادائیگی نہیں بلکہ باطن کی اصلاح، اخلاق کی پاکیزگی اور تقویٰ کا حصول ہے۔

انہوں نے اس حقیقت پر بھی روشنی ڈالی کہ اگرچہ نبوت کا سلسلہ رسول اللہ ﷺ پر مکمل ہو چکا ہے، لیکن فیضانِ نبوت قیامت تک جاری رہے گا۔ صحابۂ کرامؓ، تابعین، محدثین، مفسرین، فقہاء، علماءِ ربانیین اور اولیائے کرام نے اسی نورِ نبوت کو امت تک پہنچایا۔ صالحین کی صحبت انسان کی روحانی تربیت اور اصلاحِ نفس کا اہم ذریعہ ہے، کیونکہ کتاب علم عطا کرتی ہے اور صالح صحبت عمل اور کردار کی تعمیر کرتی ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری نے مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ دنیاوی شہرت اور عارضی کامیابیوں کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں، قرآن مجید کو سمجھ کر اس پر عمل کریں، سنتِ رسول ﷺ کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں، صحابۂ کرامؓ اور اکابرِ امت کی تعلیمات سے وابستہ رہیں، اپنے نفس کی اصلاح کریں اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں، کیونکہ یہی راستہ دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی اور اللہ تعالیٰ کی دائمی رضا کا ضامن ہے۔

آخر میں مولانا نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو سچا ایمان، اخلاص، تقویٰ، استقامت اور اپنی دائمی رضا نصیب فرمائے اور ہمیں اپنے مقبول بندوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔

متعلقہ خبریں

Back to top button