جنرل نیوز

بعد از مرگ ثریا طیب جی کو ”بھارت رتن“ دینے کا مطالبہ، چارمینار سے300 میٹر طویل ترنگا بیداری ریالی

*بعد از مرگ ثریا طیب جی کو ”بھارت رتن“ دینے کا مطالبہ، چارمینار سے300 میٹر طویل ترنگا بیداری ریالی

حیدرآباد(پریس نوٹ)آزادی کے جذبے، قومی یکجہتی، حب الوطنی اور ہندوستانی قومی پرچم کے وقار کو اجاگر کرنے کے مقصد سے مہر آرگنائزیشن اور او ایس ایم کالج، مغل پورہ کے اشتراک سے 300 میٹر طویل ”ترنگا بیداری ریلی“ کا انعقاد عمل میں آیا۔ قومی پرچم کی منظوری کے تاریخی دن کی مناسبت سے منعقدہ اس ریلی میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے طلبہ، اساتذہ، سماجی کارکنان، خواتین اور نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہوئے قومی اتحاد، اخوت اور حب الوطنی کا عملی مظاہرہ کیا۔ریالی کا آغاز تاریخی چارمینارسے ہوا، جہاں شرکاء نے 300 میٹر طویل ترنگا اپنے ہاتھوں میں تھام کرشاہ علی بنڈہ سے ہوتے ہوئے او ایس ایم کالج، مغل پورہ تک مارچ کیا۔

 

راستے بھر شرکاء نے قومی یکجہتی، بھائی چارے اور حب الوطنی کے پیغامات پر مشتمل نعرے بلند کیے۔ اختتام پر ریلی ایک جلسہ عام میں تبدیل ہوگئی۔اس موقع پر تلنگانہ ہائی کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ برکت علی خان نے اپنے صدارتی خطاب میں حکومتِ ہند سے پرزور مطالبہ کیا کہ ہندوستانی قومی پرچم کی تیاری میں نمایاں کردار ادا کرنے والی عظیم شخصیت ثریا طیب جی کو ان کی بے مثال قومی خدمات کے اعتراف میں بعد از مرگ بھارت رتن سے نوازا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ثریا طیب جی کا تعلق حیدرآباد سے تھا،

 

انہوں نے نظام کالج سے تعلیم حاصل کی اور قومی پرچم کے حتمی ڈیزائن کی تیاری میں ان کی خدمات تاریخی حیثیت رکھتی ہیں، مگر افسوس کہ آج بھی ان کے کردار سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔انہوں نے کہا کہ تاریخ کے بعض روشن ابواب تعصب اور بے توجہی کی نذر ضرور ہوئے، لیکن کسی شخصیت کی خدمات کو تاریخ سے مٹایا نہیں جا سکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی نسل کو ان عظیم قومی شخصیات سے روشناس کرایا جائے جنہوں نے ہندوستان کی تعمیر اور قومی شناخت کو مضبوط بنانے میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔دیگر مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ ثریا طیب جی نہ صرف ایک بہترین مصورہ اور باصلاحیت فنکارہ تھیں بلکہ ہندوستانی خواتین کے لیے ایک مثالی رول ماڈل بھی ہیں

 

۔ ان کی قومی خدمات کو فراموش کرنا دراصل تاریخ کے ایک اہم باب کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ محبوبیہ گرلز اسکول کی سابق طالبہ ثریا طیب جی نے اپنے شوہر بدرالدین طیب جی کے ساتھ مل کر قومی پرچم کی تیاری میں اہم فنکارانہ تعاون پیش کیا، جسے ہمیشہ یاد رکھا جانا چاہیے۔مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستانی پرچم کی جس طرح عزت و احترام کیا جاتا ہے

 

، اسی طرح اس کی تیاری میں کردار ادا کرنے والی شخصیات کو بھی مناسب قومی اعزاز دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ثریا طیب جی کی خدمات کو سرکاری سطح پر تسلیم کرتے ہوئے انہیں اعلیٰ ترین شہری اعزازات سے نوازا جائے اور ان کی شخصیت و خدمات کو نصابی کتب اور قومی تاریخ کا حصہ بنایا جائے تاکہ آنے والی نسلیں بھی ان کی قربانیوں اور خدمات سے واقف ہو سکیں۔مہر آرگنائزیشن کی جانب سے ایڈوکیٹ برکت علی خان کی سماجی خدمات پر تہنیت پیش کی گئی

 

۔ اس موقع پر محمدحسام الدین صدیقی، ایڈوکیٹ عمران، ایڈوکیٹ افسر خان، او ایس ایم کالج کے ڈائرکٹر محمد معید الدین اور دیگر مقررین نے بھی ثریا طیب جی کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی خدمات کو ناقابلِ فراموش قرار دیا۔مہر آرگنائزیشن کے سکریٹری عفان قادری نے شکریہ ادا کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button