انٹر نیشنل

سعودی عرب میں سیاحوں کی تعداد 123 ملین وژن 2030 کے احداف کی تکمیل

کے این واصف

سعودی عرب ایک عرصہ سے اپنی معیشت کے استحکام کے لیے ایک متبادل ذریعہ ملکی سیاحت کو بنایا ہواہے۔ جو سعودی وژن 2030 منصوبہ کا حصہ ہے۔ اس سلسلہ میں سعودی وزارتِ سیاحت نے سالانہ شماریاتی رپورٹ جاری کی ہے جس میں سیاحت کی مضبوط کارکردگی کو اجاگر کیا گیا ہے۔

 

رپورٹ میں جامع قومی سیاحتی حکمتِ عملی اور مملکت کے وژن 2030 کے اہداف کے مطابق سیاحتی شعبے کی تیز رفتار ترقی کو ظاہر کیا گیا ہے۔سعودی خبررساں ایجنسی “ایس پی اے” کے مطابق وزیر سیاحت احمد بن عقیل الخطیب کا کہنا ہے رپورٹ کے نتائج اور مثبت اشاریے دانشمندانہ قیادت کی غیر محدود حمایت اور سیاحتی شعبے کی ترقی کے لیے جاری رہنمائی کا نتیجہ ہیں۔ سیاحت قومی معیشت کے تنوع اور وژن 2030 کے اہداف کے حصول کا اہم ستون بن چکی ہے۔

 

انہوں نے بتایا سال 2025 کے دوران مقامی اور غیرملکی سیاحت پر مجموعی اخراجات 304 ارب ریال کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے، جو مملکت میں سیاحتی شعبے کے بڑھتے ہوئے معاشی اثرات کا واضح ثبوت ہیں۔سیاحتی شعبہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے، سیاحتی مقامات کی ترقی اور معیار زندگی کو بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس 2025 میں مقامی اور بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کی مجموعی تعداد 123 ملین ریکارڈ کی گئی، جو سال 2024 کے مقابلے میں 6 فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح مجموعی سیاحتی اخراجات 304 ارب ریال رہے، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 7 فیصد زیادہ ہیں۔

 

رپورٹ میں اقتصادی سرگرمیوں میں سیاحت کے کردار کو اجاگر کیا گیا ہے، سال 2024 کے دوران سیاحتی شعبے نے براہ راست قومی مجموعی پیداوار میں 4.9 فیصد حصہ ڈالا ہے۔سال 2025 میں بھی اس شعبے کے معاشی اثرات نمایاں رہے، سفری مد میں خرچ ہونے والی رقم 49.4 ارب ریال ریکارڈ کی گئی۔

 

غیر مذہبی سیاحوں (عمرہ و حج) کے تناسب میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ سال 2025 میں (غیر مذہبی) بیرون ملک کے سیاحوں کا تناسب 52 فیصد رہا جو سال 2019 میں 44 فیصد تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button