تلنگانہ یونیورسٹی میں "2014 کے تقرر یافتہ اساتذہ کے خلاف بے بنیاد مہم ناقابلِ قبول، ٹیوٹا کا سخت ردِّعمل

تلنگانہ یونیورسٹی میں "2014 کے تقرر یافتہ اساتذہ کے خلاف بے بنیاد مہم ناقابلِ قبول، ٹیوٹا کا سخت ردِّعمل
نظام آباد، 21 /جون (پریس نوٹ)تلنگانہ یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن (TUTA) نے 2012 ء میں اساتذہ کے تقررات کے لئے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت 2014ء میں تقرر پانے والے اساتذہ کے خلاف بعض حلقوں کی جانب سے عائد کیے جانے والے حالیہ الزامات کو بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے ان کی سخت مذمت کی ہے۔ تنظیم کے ذمہ داران نے واضح کیا کہ عدالت میں زیرِ سماعت معاملے کو یکطرفہ انداز میں پیش کرکے عوامی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش نہ صرف غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے بلکہ عدالتی عمل اور انصاف کے تقاضوں کے بھی خلاف ہے
۔تلنگانہ یونیورسٹی میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے کہا کہ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت مقدمہ نمبر رٹ پٹیشن نمبر 5566 کے سلسلے میں 31 اکتوبر 2025 کو سنگل بنچ کی جانب سے صادر کردہ فیصلہ کو بعد ازاں 26 نومبر 2025 کو ڈویژن بنچ کے ذریعے معطل کیا جا چکا ہے۔ اس کے باوجود بعض افراد، بالخصوص وینکٹ نائک، اسی معطل شدہ فیصلے کو بنیاد بنا کر مسلسل نمائندگیوں، بیانات اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے عوام میں غلط فہمیاں پیدا کرنے اور تقرر یافتہ اساتذہ کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
۔ اساتذہ تنظیم نے اس موقع پر سپریم کورٹ کے متعدد اہم فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی اعلیٰ عدالت مختلف مقدمات، جن میں مدن لال بمقابلہ ریاست جموں و کشمیر، اشوک کمار بمقابلہ ریاست بہار، منیش کمار شاہی ، اور رمیش چندر شاہی شامل ہیں، میں یہ اصول طے کر چکی ہے کہ کوئی امیدوار انتخابی یا تقرری کے عمل میں حصہ لینے کے بعد محض اپنے حق میں نتیجہ نہ آنے پر اسی عمل کو چیلنج کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
تنظیم کے مطابق یہی قانونی نکات اس وقت ڈویژن بنچ کے زیرِ غور ہیں، لہٰذا حتمی عدالتی فیصلہ آنے سے قبل کسی ایک فریق کے مؤقف کو قطعی قانونی حیثیت دینا مناسب نہیں۔ ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے کہا کہ متعلقہ اساتذہ گزشتہ کئی برسوں سے تدریس، تحقیق، علمی سرگرمیوں اور طلبہ کی رہنمائی میں مصروف ہیں اور جامعہ کی تعلیمی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایسے میں عدالتی فیصلہ آنے سے قبل ان کے وقار، پیشہ ورانہ حیثیت اور ملازمت کے تحفظ کو نقصان پہنچانے کی کوششیں ناقابلِ قبول ہیں۔اساتذہ تنظیم نے ترقیوں کے مسئلے پر بھی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کا زیرِ التوا عدالتی مقدمے سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہے۔ تنظیم کے مطابق ریاستی حکومت نے 11 نومبر 2024 کو جاری کردہ سرکاری مراسلے کے ذریعے متعلقہ اساتذہ کی ترقیوں کے عمل کو مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی۔
مزید برآں، ایڈووکیٹ جنرل نے بھی اپنی قانونی رائے میں ترقیوں کے عمل کو جاری رکھنے کی سفارش کی تھی۔ بعد ازاں 4 جنوری 2025 کو منعقدہ ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس میں ترقیوں کی منظوری سے متعلق قرارداد بھی منظور کی گئی۔تنظیم نے بتایا کہ سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف یونیورسٹی انتظامیہ اور متاثرہ اساتذہ نے ڈویژن بنچ سے رجوع کیا، جس نے 26 نومبر 2025 کو مذکورہ فیصلے پر عبوری روک عائد کرتے ہوئے اس کی عمل آوری کو معطل کر دیا۔ اس پس منظر میں کسی بھی قسم کے یکطرفہ بیانات اور الزامات کو حقائق کے برعکس قرار دیا گیا
۔پریس کانفرنس کے اختتام پر اساتذہ تنظیم نے عدلیہ پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت کے حتمی فیصلے کا احترام کرے گی۔ تاہم زیرِ سماعت معاملے کے بارے میں گمراہ کن معلومات پھیلانے، حقائق کو مسخ کرنے اور اساتذہ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف ہتکِ عزت، توہینِ عدالت اور دیگر قانونی اقدامات پر بھی غور کیا جا سکتا ہے
۔اس موقع پر ایسوسی ایشن کے صدر اے پنیا، جنرل سکریٹری این موہن بابو، نائب صدر ستیہ نارائنا ریڈی، سکریٹری بالاکشن، نیلیما، جمیل احمد، پرسنّا رانی، پروفیسر ودیا وردھنی، ڈاکٹر محمد عبدالقوی، واسم چندر شیکھر، انجیا، دھراوت ناگا راجو، سبیتا، ہریتا، لکشمن چکرورتی، رمناچاری، پرسنا شیلہ اور دیگر اراکین موجود تھے۔



