ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ،ڈونالڈ ٹرمپ کے اختیارات محدود۔ امریکی سینیٹ میں قرار داد منظور

نئی دہلی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارتی اختیارات کو محدود کرتے ہوئے امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف جنگی اختیارات سے متعلق ایک قرارداد منظور کر لی ہے۔اس قرارداد کے حق میں 50 ووٹ اور مخالفت میں 48 ووٹ ڈالے گئے۔
اس موقع پر ریپبلکن پارٹی کے چار سینیٹرس نے بھی اپوزیشن ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر اس بل کی حمایت کی۔قرارداد کے مطابق کانگریس کی باضابطہ جنگ کے اعلان یا پیشگی منظوری کے بغیر صدر کو ایران کے خلاف کوئی بھی فوجی کارروائی کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔
اس وقت دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات جاری ہیں اور ڈیموکریٹس نے اس قرارداد کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد مستقبل میں کانگریس کی منظوری کے بغیر جنگی صورتحال پیدا ہونے سے روکنا ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق یہ دسویں بار تھا کہ سینیٹ نے جنگ روکنے کی کوشش کی اور 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے آنے والا نتیجہ ماضی کی کوششوں کے برعکس ایک حیران کن تبدیلی تھا۔اگرچہ یہ قرارداد بڑی حد تک علامتی حیثیت رکھتی ہے
اور اسے مکمل قانونی قوت حاصل نہیں تاہم یہ ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں متعدد رپبلکن قانون سازوں کی جانب سے جنگ اور ایران کے ساتھ ٹرمپ کے اس معاہدے پر بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتی ہے جس کے ذریعے جنگ ختم کی گئی۔ایوانِ نمائندگان اس ماہ کے آغاز میں اس قرارداد کی منظوری دے چکا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے منگل کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس ووٹنگ کو ’غلط وقت پر اور بے معنی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام نے ایران کو ’مدد اور حوصلہ‘ فراہم کیا ہے۔سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے قائد چک شومر نے کہا ’بار بار، سینیٹ میں رپبلکن ارکان کی بھاری اکثریت نے امریکی عوام کے بجائے ٹرمپ اور ان کی جنگ کا ساتھ دیا۔‘
امریکی سینیٹ میں اقلیتی رہنما چک شومر 23 جون 2026 کو واشنگٹن میں امریکی کیپیٹل میں سینیٹ کی ہفتہ وار پالیسی لنچ میٹنگ کے بعد صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔ شومر نے صدر ٹرمپ کے ایران معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے متعلق جنگی اختیارات کی قرارداد کی سینیٹ سے منظوری ضروری ہے ۔
دوسری جانب پینٹاگون نے سینیٹرس کو بتایا ہے کہ اسے تقریباً 80 ارب ڈالر درکار ہیں جن میں سے زیادہ تر رقم ایران کے خلاف امریکی جنگ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ہے جس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے طلب کیے گئے پہلے سے ہی بڑے فوجی اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا۔وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ باضابطہ درخواست سے قبل کیپیٹل ہل میں ارکانِ کانگریس سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب 18 جون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط کیے تھے اور بعدازاں پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں اس معاہدے پر بطور ثالث دستخط کیے۔
اس پیش رفت کے بعد مشرق وسطیٰ پر چھائے جنگ کے بادل چھٹنے کی امید پیدا ہوئی۔امریکہ اور ایران کے درمیان اس معاہدے کو فوری طور پر نافذ العمل ہونا ہے اور اس سے جنگ بندی میں توسیع ہوتی ہے۔




