آپریشن کنول: کیا بھاجپا کو دو تہائی اکثریت تک پہنچاۓ گا؟

تحریر:سید سرفراز احمد
جب کبھی بھی جمہوری ملک اور اس کی جمہوریت کے ساۓ میں تانا شاہی کا ڈنکا بجنے لگتا ہے تو ایسے ملک کا مستقبل کیا ہوگا اس بات کو ہم اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بات بھی کتنی عجیب ہوتی ہے کہ جو تانا شاہ ہوتے ہیں وہی جمہوریت کے اس قدر گن گاتے ہیں کہ عوام کو لگنے لگتا ہے کہ ان جیسا پارسا اس ملک میں کوئی نہیں۔ لیکن جب ان کی تانا شاہی کی پرتیں ایک ایک کرکے کھلتی ہیں تو یہ صاف طور پر نظر آتا ہے کہ ان کا رویہ جمہوریت کے بالکل متضاد ہوتا ہے۔ یہ متضاد رویہ صرف ان لوگوں کو سمجھ میں آتا ہے جو جمہوریت کے تقاضوں کو پورا کرنا جانتے ہوں۔ ورنہ یہ بات سمجھنا ان کے بس کی بات نہیں جو اند بھکتی کے نشے میں چور ہوجاتے ہیں جو جمہوری و غیر جمہوری کاموں میں فرق بھی محسوس نہیں کر سکتے ہیں۔ انھیں تو وہی سب کچھ اچھا لگتا ہے جو ان کی اپنی پسندیدہ پارٹی کرتی ہے۔
ملک کے موجودہ ماحول کو دیکھتے ہوۓ ایک سوال زہن کو جھنجھوڑ رہا ہے کہ کیا اب ہمارے ملک میں جمہوریت باقی ہے؟ جس کا جواب آپ کو اپنے زہنوں میں تلاش کرنا ہے۔ لیکن ملک کی پچھلی دہائی اور موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوۓ ہمارا یہ احساس ہے کہ اب اس ملک کی جمہوریت صرف دستاویزی حیثیت تک سمٹ کر رہ گئی ہے۔ باقی جتنے کام اس ملک میں ہورہے ہیں ان سب میں جمہوریت کا نام تو موجود ہے لیکن جمہوری طریقے کو مکمل فراموش کیا جارہا ہے۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ سب کیوں ہورہا ہے؟ جس کا آسان سا جواب یہی ہے کہ اس ملک کے موجودہ حکمران اپنا قبضہ مکمل برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ تاکہ وہ اپنے مقاصد کو حاصل کرسکے۔
اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ بھاجپا اس وقت این ڈی اے کے تعاون سے ملک پر حکمرانی کررہی ہے۔ اور بھاجپا اس ملک کی سب سے دولت مند پارٹی ہے۔ ابھی تک بھاجپا بڑے بڑے سرکاری اداروں کے تعاون لیتی رہی۔ اس پر طرح طرح کے الزامات بھی لگتے رہے کہ وہ الیکشن کمیشن کے بھر پور تعاون سے مختلیف ریاستوں میں اقتدار میں آتی رہی۔ لیکن اب اس کے ارادے اور بھی آگے بڑھ گئے ہیں۔ وہ چاہتی ہے کہ لوک سبھا میں دوتہائی اکثریت حاصل کرلیں۔ جی ہاں بھاجپا اس کام کی منصوبہ بندی بہت پہلے سے کرتی آرہی ہے کہ وہ لوک سبھا میں نہ صرف اکثریت بلکہ دوتہائی اکثریت حاصل کرلے۔ اسی لیئے انھوں نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں اب کی بار چار سو پار کا نعرہ لگایا تھا۔ لیکن ان کے لیئے مایوس کن بات یہ رہی کہ وہ 240 تک محدود ہوکر رہ گئے۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا بھاجپا لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اپنی دو تہائی اکثریت بنا پاۓ گی؟ اس سوال کا جواب ہم مختلیف زاویوں سے دیکھیں گے۔لیکن جو بھاجپا 2024 سے بے ساکھی والی کشتی میں سوار ہے کیا پتہ یہ کشتی آگے کے سفر میں کب ڈگمگا جاۓ۔ شائد بھاجپا اب اس کشتی سے نکل کر وہ خود اپنی مضبوط کشتی تیار کرنا چاہتی ہے۔ لیکن بھاجپا کو بڑا جھٹکا اس وقت لگا جب اسی سال اپریل میں آئین کی 131 ویں ترمیم یعنی حد بندی بل پیش کیا گیا۔ جس کا مقصد لوک سبھا کی نشستوں کو543 بڑھا کر 850 تک کرنا اور خواتین کو 33 فیصد تحفظات نافذ کرنا تھا۔جس کے لیئے لوک سبھا میں دوتہائی اکثریت ضروری تھی۔لیکن اپوزیشن جماعتوں نے اس بل کی مخالفت کی اور این ڈی اے سرکار اپنی اکثریت پیش کرنے سے قاصر رہی۔ شائد اس بل کے منظور نہ ہونے کے بعد سے بھاجپا کو شدید یہ احساس پیدا ہوا کہ وہ اپنے لاک سبھا کی اکثریت میں اضافہ کرے۔
بھاجپا کو یہ اندازہ ہوا ہوگا کہ اس کو آئندہ لوک سبھا انتخابات میں شائد اکثریت حاصل نہ ہو۔ اسی لیئے بھاجپا نے بڑی ہی شاطرانہ چال چلتے ہوۓ آپریشن کنول کو چھیڑ دیا۔ اور اپوزیشن کی علاقائی جماعتوں کے لوک سبھا اراکین کو اپنے نرغے میں پھنسا رہی ہے۔ یہ کام بھاجپا کی طرف سے بہت پہلے سے کیا جارہا ہے۔ اس کام کا پہلا پڑاؤ یہی تھا کہ پہلے پارٹیوں میں پھوٹ ڈالو پھر راستہ خود بخود ہموار ہوجاۓ گا۔ لیکن بھاجپا اب اس کام میں تیزی پیدا کرچکی ہے۔ مہاراشٹر میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ شیو سینا کے دو ٹکڑے کیئے گئے۔ نائیڈو اور نتیش کمار کو انڈیا بلاک سے الگ کیا گیا۔یہ سب سیاسی کھیل اسی کڑی کا ایک حصہ ہے۔ عام آدمی پارٹی کے 7 اراکین پارلیمان کو خریدا گیا۔ ابھی دیکھیں بنگال میں بھاجپا کو بھاری اکثریت سے کامیابی ملنے کے بعد کیسے ترنمول کانگریس پارٹی میں پھوٹ ڈالی گئی۔ ترنمول کانگریس کے 20 اراکین لوک سبھا نیشنلسٹ سٹیزن پارٹی آف انڈیا میں شامل ہوگئے۔ اور لوک سبھا اسپیکر سے ملاقات کرتے ہوۓ لوک سبھا میں اپنی جگہ الگ رکھنے کی مانگ کی۔ 20 ممبر آف پارلیمنٹ ایک ادنیٰ سی پارٹی کو ایسے مل گئے جیسے کسی فقیر کو ہیروں کی پوٹلی مل گئی ہو۔
ان 20 میں ایسے بھی اراکین شامل ہیں جو مرتے دم تک دیدی کا ساتھ نہ چھوڑنے کی قسمیں کھائی ہوگی۔ ان 20 میں سب سے بڑا نام سایونی گھوش کا ہے۔ جو ہر دم دیدی کے عکس کی طرح نظر آتی تھی۔ جن کا سر قلم کرنے پر اترپردیش کے بی جے پی لیڈر نے ایک کروڑ کا انعام رکھا تھا۔ یہ وہی سایونی گھوش ہے جس نے راگھو چڈھا کے بی جے پی میں شامل ہونے پر کہا تھا کہ میں چڈھی نہیں ہوں۔ یہ وہی سایونی گھوش ہے جس نے انتخابی جلسوں میں بی جے پی کے خلاف نغمے سنا سنا کر عوام کو اپنی جانب کھینچنے کی کوشش کی تھی۔ آج وہی سایونی گھوش بی جے پی کی گود میں جاکر بیھٹنے والی ہے۔ یہاں تین باتیں اہم ہیں ایک تو یہ کہ بھاجپا جس ریاست میں اپنی حکومت بناتی ہے اپوزیشن جماعتوں میں پھوٹ ڈالتی ہے۔ دوسرا کام یہ کہ اپوزیشن جماعتوں کے اراکین اسمبلی و اراکین لوک سبھا کو سرکاری ایجنسیز کا خوف دلاتی ہے۔ سیدھے الفاظ میں جیل جانے کا ڈر بٹھاتی ہے۔ تیسرا کام یہ کہ انھیں دولت کی لالچ دکھا کر خریدتی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگال کی ترنمول کانگریس کے اراکین لوک سبھا کو پانچ پانچ کروڑ میں خریدا گیا۔ بھلا کون اتنا ایمان دار سیاست داں ہوگا جس کو روپیہ بھی مل رہا ہو، جیل جانے سے بھی بچ رہا ہو اور کام کرنے کے لیئے بجٹ بھی مل رہا ہو، تو ایسا سیاست داں سو میں سے ایک یا دو ہی ملیں گے۔ باقی یہ سب سیاست ہے۔ کل کس کی گودی میں شام ڈھل جاۓ اور نئے طلوع آفتاب سے پہلے کس کے گود میں سوجاۓ کسی کا کوئی اعتبار نہیں۔
ابھی دو دن سے یہ خبر گردش کررہی ہے کہ بنگال کے بعد آپریشن کنول پھر سے مہاراشٹر کی طرف رُخ موڑ لیا ہے۔ کیوں کہ این سی پی شرد پوار کے پاس 8 اراکین لوک سبھا ہیں۔ اور ادھو ٹھاکرے کے پاس 9 اراکین لوک سبھا ہیں۔ ادھو ٹھاکرے نے صاف کہہ دیا ہے کہ جس کو جانا ہے جاسکتا ہے۔ لیکن جب ہمارا وقت آۓ گا تو ہم بتائیں گے۔ سنجے راوت نے الزام لگایا کہ بھاجپا ہمارے ایک ایک ایم پی 15 کروڑ کا آفر دے رہی ہے۔ میڈیا کے حوالے سے یہ بات گردش کررہی ہے کہ ادھو کے 6 اراکین لوک سبھا ادھو کے رابطے سے باہر ہوچکے ہیں۔ اب یہ بات تقریباً طئے ہوچکی ہے کہ مہاراشٹر میں بھاجپا ادھو کو دو بار توڑنے میں کامیاب ہوتی نظر آرہی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا یہ وہی بھاجپا ہے جس نے چانکیہ شرد پوار اور آنجہانی اجیت پوار داد میں پھوٹ ڈالی تھی۔ اس بات کی چرچا چل ہی رہی تھی کہ چاچا بھتیجے پھر سے ایک ہونے والے ہیں تب ہی اجیت دادا کی ہیلی کاپٹر حادثے میں موت ہوجاتی ہے۔
ریاست اترپردیش میں اسمبلی انتخابات جیسے جیسے قریب آرہے ہیں وہاں کا ماحول گرم ہوتا جارہا ہے۔ جہاں سماج وادی پارٹی کے 37 اراکین لوک سبھا ہیں۔ شائد بھاجپا اب توڑ پھوڑ کا کام اترپردیش کی سماج وادی پارٹی میں کرنے جارہی ہے۔ اترپردیش کی یوگی سرکار کے وزیر اوم پرکاش راج بھر جو امیت شاہ کے قریبی مانے جاتے ہیں۔ وہ خود کہہ رہے ہیں کہ بنگال اور مہاراشٹر مکمل ہوچکا ہے اب اترپردیش کی باری ہے۔ اگر اترپردیش میں بھاجپا کی چانکیہ گری کام کرجاتی ہے تو بھاجپا کے لیئے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہوگا کہ وہ لوک سبھا میں دو تہائی اکثریت حاصل کرلے۔ بیش تر سیاسی مبصرین یہ کہہ رہے ہیں کہ اترپردیش میں سپا کی جانب سے ایسا ہونا نا ممکن کام ہے۔ چوں کہ اکھیلیش یادو ممتا دیدی و دیگر اپوزیشن جماعتوں سے بالکل مختلیف ہیں۔ وہ اپنے اراکین سے بہت قریبی رابطے رکھتے ہیں۔ وہیں پر ہم نے بھی دو باتیں محسوس کی ہے وہ یہ کہ ایک تو اترپردیش میں اسمبلی انتخابات ہونے جارہے ہیں اسی لیئے انتخابات تک توڑ پھوڑ خرید و فروخت کی سیاست نہیں ہوگی۔ توڑ پھوڑ کی سیاست کا انحصار یوپی انتخابی نتائج کے بعد ہی ہوسکتا ہے۔ دوسرا خود اکھلیش یادو رکن پارلیمان کی حیثیت سے لوک سبھا میں اچھا خاصا وقت گزار رہے ہیں۔ اور یہ بات بھی ممکن ہے کہ ہر مسئلہ پر اپنے اراکین لوک سبھا سے تجاویز و مشورے لیتے ہوں گے۔ اور سب سے اہم بات اکھلیش یادو اپنے اراکین لوک سبھا کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا اور نہ انھیں اکیلا محسوس کرایا ہوگا کیوں کہ اکھلیش کی سیاسی چھاپ دیگر سے بہت الگ ہے۔
ابھی لگ بھگ اتنا تو طئے ہوگیا ہے کہ بھاجپا علاقائی سیاسی جماعتوں کے اراکین لوک سبھا کو ڈرا دھماکر یا ای ڈی، سی بی آئی کا خوف دکھا کر اور پھر سونے پر سہاگہ یہ کہ روپیوں کی لالچ بتاکر اپنی گودی میں بٹھانے کا منصوبہ بنا رکھی ہے۔ اور یہ سب سیاست میں جائز اور سیاسی قائدین کے لیئے ایک انتہائی آسان کام ہے۔ لیکن یہ سب اس دیش کی عوام کے ہوش اڑا دے گا۔ سنجے راوت نے سچ کہا کہ اگر سب پارٹیوں کے ایم پیز، ایم ایل یز خریدنے ہی ہوں تو پھر اس ملک میں الیکشن کی ضرورت ہی کیا ہے؟ سنجے راوت کا یہ سوال جمہوریت کے تناظر میں بالکل درست ہے۔ لیکن جو آئینی ادارے جن پر عوام کا اعتماد تھا وہی جمہوریت کو لوٹتا ہوا دیکھ بھی مسکرا رہے ہیں تو عوام کیا ہی کچھ کرلے گی۔ یہاں سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ بھاجپا ایوانوں کی دو تہائی اکثریت لے کر کیا کرے گی؟
جس پر مختلیف مہارین نے الگ الگ جوابات دیئے ہیں جن میں دو جواب بہت اہمیت کے حامل ہے۔ ایک تو بھاجپا دو تہائی اکثریت لے کر کچھ ایسے بڑے فیصلے کرسکتی ہے جو اس ملک نے کبھی ماضی میں نہیں لیئے ہوں گے۔ جیسے حالیہ حد بندی بل جو منظور نہ ہوسکا۔ اور ایک ملک ایک الیکشن، دوسرا یہ کہ صدارتی نظامِ حکومت لانا، یہ جمہوریت کی ایک قسم ہے جہاں صدر ریاست اور حکومت دونوں کا سربراہ ہوتا ہے۔ اس نظام میں حکومت کی باگ ڈور براہِ راست صدر کے پاس ہوتی ہے، جو مقننہ (پارلیمنٹ) سے آزاد ہو کر اپنی کابینہ منتخب کرتا ہے۔صدر کا انتخاب عوام براہِ راست یا بالواسطہ کرتے ہیں، اور صدر کو پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کے ذریعے آسانی سے ہٹایا نہیں جا سکتا۔ اس کے علاوہ بھاجپا اپنے مقاصد اور اپنی مربی تنظیم آر ایس ایس کے نظریہ کے ہر ایک ایجنڈے کو نافذ کرنے کی پوری پوری کوشش کرے گی۔بقول معراج فیض آبادی
یہ بزدلی کی سیاست ہے اس صدی کا کمال
کہ تیر چلتے رہیں اور کماں دکھائی نہ دے۔


