قطر کے راس لفان گیس فیلڈ میں شدید دھماکہ، 54 افراد زخمی کئی لاپتہ

نئی دہلی: عالمی گیس تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھے جانے والے قطر کے راس لفان گیس فیلڈ میں واقع برزان پلانٹ میں اتوار کی نصف شب ایک زبردست دھماکہ ہوا۔ اس حادثے میں 54 افراد زخمی ہوئے جبکہ 18 افراد لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔
دھماکے کے بعد شدید آگ بھڑک اٹھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے دوران آئی آر جی سی کی افواج نے اس گیس فیلڈ کو نشانہ بناتے ہوئے شدید حملے کیے تھے ان حملوں کے نتیجے میں گیس پلانٹ کو نقصان پہنچا
اور اس کی پیداواری صلاحیت میں نمایاں کمی آ گئی۔ حال ہی میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی آنے کے بعد قطر نے گیس کی پیداوار دوبارہ شروع کرنے کے اقدامات کیے تھے۔قطر کے دارالحکومت دوحہ کے شمال مشرق میں تقریباً 80 کلومیٹر کے فاصلے پر خلیج فارس کے ساحل
پر راس لفان شہر واقع ہے۔ اپنی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے یہ ایشیا اور یورپ کو برآمدات کے لیے نہایت موزوں مقام سمجھا جاتا ہے۔ یہاں سے گیس دنیا کے 30 سے زائد ممالک کو برآمد کی جاتی ہے جن میں جاپان، جنوبی کوریا، بھارت، یورپی یونین اور چین جیسی بڑی معیشتیں شامل ہیں۔بھارت کی مجموعی
ایل این جی درآمدات میں سے تقریباً 40 سے 47 فیصد قطر سے آبنائے ہرمز کے راستے آتی ہیں۔ اس گیس فیلڈ کا انتظام قطر انرجی کرتی ہے۔ بھارت اور قطر کے درمیان 2024 میں 78 ارب ڈالر مالیت کا ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت 2028 سے اگلے 20 برسوں تک ہر سال 7.5 ملین ٹن ایل این جی فراہم کی جائے گی۔
قطر کی ایل این جی بھارت میں برقی کی پیداوار، کھاد کی تیاری، صنعتی سرگرمیوں اور گھریلو استعمال کے لیے نہایت اہم ہے۔ امریکہ اور افریقہ کے مقابلے میں قطر سے بھارت تک گیس کی ترسیل نسبتاً کہیں زیادہ سستی پڑتی ہے۔



