تنخواہیں سب کو ملیں، تلنگانہ اردو اکیڈمی کے ملازمین کیوں رہ گئے محروم؟

فینانس محکمہ نے 4 لاکھ آؤٹ سورسنگ ملازمین کی تنخواہیں جاری کردیں، اردو اکیڈمی کے 129 ملازمین پھر بھی محروم
حیدرآباد: ریاستی حکومت کی جانب سے مختلف محکمہ جات کے آؤٹ سورسنگ اور کنٹراکٹ ملازمین کو بروقت تنخواہوں کی ادائیگی کے دعوؤں کے باوجود اردو اکیڈمی کے 129 ملازمین ایک بار پھر تنخواہوں سے محروم رہ گئے، جس کے باعث ملازمین میں شدید مایوسی پائی جارہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی ہدایت پر محکمہ فینانس نے مختلف سرکاری محکمہ جات، کارپوریشنوں اور سوسائٹیوں میں خدمات انجام دینے والے چار لاکھ سے زائد آؤٹ سورسنگ اور کنٹراکٹ ملازمین کی جولائی ماہ کی تنخواہیں یکم جولائی کو ہی ان کے بینک کھاتوں میں منتقل کر دیں۔ تاہم اردو اکیڈمی کے کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریوں میں خدمات انجام دینے والے 129 ملازمین اس سہولت سے محروم رہ گئے۔
متاثرہ ملازمین کا کہنا ہے کہ انہوں نے دیگر محکمہ جات کے ملازمین کی طرح گزشتہ سال نومبر میں ہی اپنی تمام تفصیلات اور بائیو ڈیٹا محکمہ فینانس کو جمع کرا دیا تھا، اس کے باوجود انہیں اب تک تنخواہیں جاری نہیں کی گئیں۔
ملازمین نے ریاستی وزیر برائے اقلیتی بہبود محمد اظہرالدین اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی زیر التوا تنخواہیں فوری جاری کی جائیں تاکہ انہیں مالی مشکلات سے نجات مل سکے۔
ملازمین نے کہا کہ نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ بچوں کی اسکول فیس، کتابوں اور یونیفارم کی خریداری جیسے اخراجات سامنے ہیں، لیکن تنخواہیں نہ ملنے کے باعث وہ شدید پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ ان کے مسائل کا فوری حل نکال کر تنخواہوں کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ان کے خاندان مزید مشکلات سے دوچار نہ ہوں۔



