خاتون ڈاکٹر کو چھیڑا، گولی مارنے کی دھمکی بھی دی، بی جے پی لیڈر کے خلاف مقدمہ درج – مدھیہ پردیش کے بندیل کھنڈ میڈیکل کالج ہاسپٹل میں واقعہ
بھوپال: مدھیہ پردیش کے ضلع ساگر میں واقع سرکاری بندیل کھنڈ میڈیکل کالج ہاسپٹل میں بی جے پی یوا مورچہ کے ایک لیڈر پر خاتون ڈاکٹر اور طبی عملہ کے ساتھ بدتمیزی، جنسی ہراسانی اور جان سے مارنے کی دھمکی دینے کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔ واقعہ کے خلاف ڈاکٹروں اور نرسنگ عملے نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق جمعرات کی رات دیر گئے لکشمی تیواری نامی خاتون کو ایمرجنسی علاج کے لئے ہاسپٹل لایا گیا۔ طبی عملے کا کہنا ہے کہ مریضہ کے ہاسپٹل پہنچنے سے پہلے ہی اس کے علاج کے سلسلے میں متعدد فون کالز موصول ہوئیں۔ علاج کے دوران مریضہ کے ساتھ آئے دو افراد نے ڈاکٹروں اور نرسنگ اسٹاف کے ساتھ غیر مہذب رویہ اختیار کیا۔
جب خاتون ڈاکٹر نے ان کے رویہ پر اعتراض کیا تو بی جے پی ریاستی یوا مورچہ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن انیل شریواستو نے مبینہ طور پر انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا اور ان کے جسم کو نامناسب انداز میں چھونے کی کوشش کی
۔ شکایت کے مطابق اس نے ڈاکٹر کو دھمکی دی کہ اگر وہ ہاسپٹل کے احاطے سے باہر آئیں تو انہیں گولی مار دے گا۔ ڈاکٹر اور نرسنگ عملے نے الزام لگایا کہ انیل شریواستو اور اس کے ایک ساتھی نے بدتمیزی اور دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا، جس پر پولیس میں شکایت درج کرائی گئی۔
واقعہ کے خلاف سرکاری میڈیکل کالج ہاسپٹل کے ڈاکٹروں اور نرسنگ عملے نے کام کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اسپتال کے مرکزی دروازے پر احتجاج کیا اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کے باعث طبی خدمات متاثر ہوئیں اور مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
بعد ازاں ہاسپٹل انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے کارروائی کی یقین دہانی کرائے جانے پر ڈاکٹروں نے عارضی طور پر احتجاج ختم کر دیا، تاہم جونیئر ڈاکٹرس ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ اگر 24 گھنٹوں کے اندر ملزمین کو گرفتار نہ کیا گیا تو ریاست بھر میں ہڑتال کی جائے گی۔
پولیس حکام کے مطابق انیل شریواستو اور اس کے ساتھی کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ملزمین کی تلاش جاری ہے جبکہ بندیل کھنڈ میڈیکل کالج ہاسپٹل میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔



