جرائم و حادثات

حیدرآباد:پب ڈانسر رینوکا کی خودکشی کے معاملے کو "لو جہاد” کا رنگ دینے کی کوشش

حیدرآباد: لنگر حوض کی لاج میں مسلم شخص کے ساتھ موجود خاتون کی خودکشی کے واقعہ کو بعض ہندو تنظیموں کی جانب سے لو جہاد کا رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔

 

انسپکٹر وینکٹ رامولو کے مطابق (26) سالہ رینوکا گزشتہ سات سال سے پب ڈانسر کے طور پر کام کر رہی تھی۔ آٹھ سال قبل اس کی شادی ہوئی تھی اور اس کا چار سالہ بیٹا بھی ہے۔ شوہر سے اختلافات کے باعث وہ اس وقت اپنے والدین کے ساتھ بولارم میں رہ رہی تھی۔پولیس کے مطابق گولکنڈہ کا فاروق جو ڈیری فارم اور رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کرتا ہے سے رینوکا کی ایک پب میں دوستی ہوئی تھی۔

 

گزشتہ چھ ماہ سے دونوں لنگر ہاؤس میں آندھرا فلور مل کے قریب واقع گرینڈ ہوٹل آتے جاتے تھے۔جمعرات کی رات بھی دونوں ہوٹل کے ایک کمرے میں ٹھہرے۔ بعد ازاں فاروق نے بتایا کہ وہ قریب واقع کلاسک گارڈن میں ایک تقریب میں شرکت کے لیے جا رہا ہے اور کمرے سے نکل گیا۔ علی الصبح واپس آنے پر اس نے رینوکا کو پنکھے سے لٹکا ہوا پایا اور پولیس کو اطلاع دی۔

 

پولیس نے بتایا کہ ہوٹل کے کمرہ سے شراب کی ایک بوتل بھی برآمد ہوئی ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق فاروق کے جانے کے بعد رینوکا نے کوکٹ پلی کی اپنی دوست ستیہ سے فون پر بات کی تھی۔ اس نے بتایا تھا کہ اس کا موبائل فون خراب ہو گیا ہے جس پر ستیہ کے بھائی نے اسے فون درست کروانے کا یقین دلایا۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے بعد رینوکا نے مبینہ طور پر ستیہ کو ویڈیو کال کر کے کہا کہ وہ مرنے والی ہے۔

 

متوفیہ کے ارکان خاندان کی شکایت پر لنگر ہاؤس پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ہندو تنظیموں کے نمائندوں نے الزام لگایا ہے کہ رینوکا کی موت خودکشی نہیں بلکہ قتل ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس اس معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرے۔رینوکا کی موت کی اطلاع ملنے پر کاروان اور نامپلی اسمبلی حلقوں سے تعلق رکھنے والی مختلف ہندو تنظیموں کے نمائندے جمعہ کے روز لنگر ہاؤس پولیس اسٹیشن پہنچے اور واقعے کی تفصیلات معلوم کیں۔

 

اس موقع پر ہندو تنظیموں کے قائدین بنگاری پرکاش اور الوال اندرسینا ریڈی نے الزام عائد کیا کہ معصوم ہندو خواتین کو "لو جہاد” کے نام پر پھنسایا جا رہا ہے اور ان کے قتل کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس کسی بھی سیاسی جماعت کے دباؤ میں آئے بغیر رینوکا

 

کی موت کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button